احتساب عدالت کے اندر اور باہر، کیا ہوا، کیسے ہوا؟

احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر پر فرد جرم عائد کرنے کی سب تیاریاں مکمل تھیں، جوڈیشل کمپلیکس کے باہر سکیورٹی کے موثر اقدامات کئے گئے تھے، خاردار تاریں لگانے کے ساتھ ساتھ اسلام آباد پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کی خاصی تعداد موجود تھی، مرکزی دروازے پر پولیس کمانڈوز تعینات تھے، عدالت کے اندر اور باہر پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کا فائدہ کسی اور کو ہو نہ ہو لیکن نواز شریف اور ان کے خاندان کو ضرور ہوا ہے کیونکہ نہ تو ان پر فرد جرم عائد کی گئی اور نہ ہی نواز شریف کے ممکنہ طور پر وارنٹ گرفتاری جاری کئے جا سکے۔ بی بی سی کے مطابق ساڑھے 8 بجے پولیس کے کنٹرول روم سے اطلاع دی گئی کہ مہمان عدالت کی طرف روانہ ہو گئے ہیں جس کے بعد حکام نے سکیورٹی اہلکاروں کو مزید الرٹ رہنے کا حکم دے دیا، احتساب عدالت کا عملہ اور ملزموں کے وکلا مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کا انتظار کر رہے تھے کہ اچانک زور سے عدالت کا دروازہ کھلا اور ملزموں کے ساتھ ساتھ وکلا کی بڑی تعداد کمرئہ عدالت میں داخل ہو گئی اورشور شرابا شروع کر دیا اور عدالتی عملے سے احتساب عدالت کے جج کو بلانے پر اصرار کیا، دس منٹ کے بعد جب جج محمد بشیر کمرئہ عدالت میں پہنچے تو وکلا نے بتایا کہ عدالتی حکم کے باوجود سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں نہ صرف کمرہ عدالت میں داخل ہونے سے روکا بلکہ ان پر تشدد بھی کیا گیا، کمرہ عدالت میں ان وکلا کو بھی پیش کیا گیا جن پر ان کے بقول پولیس اہلکاروں نے تشدد کیا تھا۔ کیپٹن (ر) صفدر اور مریم نواز کو عدالت میں سامنے کی نشستوں پر بٹھایا جانا تھا تاہم جب وہ پہنچے تو وہاں پہلے سے ہی ایک شخص براجمان تھا جسے مخاطب کرتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر نے پوچھا کہ تم آئی ایس آئی سے ہو یا ایم آئی سے؟ جس پر اہلکار نے کہا ان کا تعلق اسلام آباد پولیس کی سپیشل برانچ سے ہے اور وہ صرف ان لوگوں کی نشست محفوظ رکھنے کے لیے وہاں بیٹھا ہے، جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پولیس اور وکلا کے درمیان جب ہاتھا پائی ہو رہی تھی تو داخلہ امور کے وزیر مملکت طلال چودھری جوڈیشل کمپلیکس کے احاطے میں ہی موجود تھے لیکن انہوں نے بیچ بچاؤ کرانے اور نہ ہی اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کو بچانے کی کوشش کی جن کی وردی وکلا نے پھاڑ دی تھی، گذشتہ سماعت کے دوران عدالت نے کہا تھا کہ نواز شریف آئندہ پیشی پر اپنی حاضری کو یقینی بنائیں، اس تاثر کو بھی تقویت مل رہی ہے کہ یہ واقعہ حکومت کی منصوبہ بندی ہے تا کہ مقدمے کی کارروائی کو آگے نہ چلنے دیا جائے تاہم حکومت اس الزام سے انکاری ہے۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.