احتساب کے بغیر ملک نہیں بچ سکتا: وزیراعظم

Prime Minister Imran Khan addressing after inauguration of Mianwali Railcar and Rawalpindi Express at a ceremony in PM Office Islamabad on 14th September, 2018.

 وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہےکہ ملک میں کرپشن سب سے بڑا مسئلہ ہے اور احتساب کے بغیر ملک نہیں بچ سکتا۔

اسلام آباد میں سول سرونٹس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کبھی پاکستان کو اتنے چیلنجز نہیں تھے جتنے آج ہیں، ہم قرضوں پر ہر روز 6 ارب روپے سود ادا کررہے ہیں، پاکستان پر 30 ہزار ارب کا قرضہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں، عوام اور بیوروکریسی نے خود کو بدلنا ہے، اگر خود کو تبدیل نہیں کریں گے تو ترقی نہیں کریں گے، کوئی چیز دنیا میں نا ممکن نہیں ہے، ناممکن کو ممکن بنانے کے لیے انسان کو خود کو بدلنا پڑتا ہے۔

ہمارے پاس ملک چلانے کے لیے پیسہ نہیں ہے: وزیراعظم

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ملک چلانے کے لیے پیسہ نہیں، ہم نے جو قرضے لیے وہ بجائے بہتری کے لیے ان سے ایسے پروجیکٹ بنائے گئے جو نقصان میں جارہے ہیں، اورنج اور میٹرو منصوبے کے اعدادو شمار کل کابینہ کے اجلاس میں سامنے آئے، ان پروجیکٹ پر قرضے لیے ہوئے ہیں اور سود دے رہے ہیں، اس سے مزید نقصان کررہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ جب سے ملک آزاد ہوا تب سے حکمران طبقے کا مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں ہوا، گورے نے ہندوستان کے پیسوں سے شاہانہ طرز زندگی اپنایا تھا، ہمارے حکمران طبقے نے غریب کے پیسے پر عیاشی کی گورے کی روایت کو اپنایا، آزادی کے بعد حکومت اور عوام کو ایک ہونا چاہیے تھا لیکن نہیں ہوئے، یہاں جس طرح خرچہ ایک حکمران طبقہ کر رہاہے ایسے کہیں نہیں ہوتا، ہمیں انگریز کے دور کی سوچ کو تبدیل کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ بچے گندہ پانی پینے سے مرتے ہیں، زچگی کے دوران بنیادی طبی سہولیات نہ ہونے سے خواتین مر جاتی ہیں، ملک کا تعلیمی نظام بگاڑ دیا گیا۔

جس سطح کی کرپشن ہے، سارا مسئلہ ہی کرپشن ہے: عمران خان

وزیراعظم کاکہنا تھاکہ ہم قوم کے ووٹ پرآئے ہوئے ہیں اور ان کے ٹیکس کے پیسے پر بیٹھے ہیں، قومیں چیلنجز سے نکل جاتی ہیں، ہم بحران سے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں، وزیراعظم ہاؤس کے چار ہیلی کاپٹر، گاڑیاں اور بھینسیں بھی نیلام کررہے ہیں، یہ مائنڈ سیٹ کی تبدیلی ہے، ہمیں اپنی سوچ کو تبدیل کرنا ہے، قوم کا ایک ایک روپیہ خرچ کرتے وقت سوچیں کہ یہ ان ڈھائی کروڑ بچوں پر لگ سکتا ہے جو اسکول نہیں جاتے۔

عمران خان نے کہا کہ احتساب کے بغیر ملک نہیں بچ سکتا، جس سطح کی کرپشن ہے، سارا مسئلہ ہی کرپشن ہے، پیسہ چوری علیحدہ ہوا لیکن پیسہ چوری کرنے کے لیے جو ادارے تباہ کیے گئے اس نے ملک تباہ کردیا، تیسری دنیا کی وجہ کرپشن ہے، پیسہ چوری کرنے کے لیے ادارے تباہ کیے جاتے ہیں، اگر آج مغرب میں شفافیت ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ ہم سے زیادہ ایماندار ہیں بس ان کے ادارے مضبوط ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کے لیے احتساب ضروری ہے، بیوروکریسی کی جو شکایات آئیں اس پر چیئرمین نیب سے بات کی ہے، انہیں کہا ہے کہ اگر کسی بیوروکریٹ سے تفتیش کرنی ہے تو اس کی تذلیل نہ کی جائے، بیوروکرٹ اگر کام نہیں کرے گا تو ہم جتنی مرضی پالیسی بنائیں کامیاب نہیں ہوں گے، ہم بڑا رسک لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی کو یقین دلاتا ہے آپ چانس لیں غلطی ہوتی ہے، سب سے زیادہ مجھ سے غلطیاں ہوئیں، غلطی ہونا کوئی بری بات نہیں لیکن پوری طرح کام کریں کوئی غلطی ہوئی میں ساتھ کھڑا ہوں گا، یقینی بنائیں گے کہ بیوروکریسی پر کوئی دباؤ نہ پڑے، آپ مجھے مجھے پسند کریں نہ کریں کوئی پرواہ نہیں، مجھے صرف کام سے غرض ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.