اداکار دیو آنند کو مداحوں سے بچھڑے 6 برس بیت گئے

بالی ووڈ کےسدا بہار ہیرو دیو آنند کو مداحوں سے بچھڑے چھ برس ہو گئے، ان کے بغیر بھارتی فلم انڈسٹری کا ذکر ادھورا تصور کیا جاتا ہے، اس منفرد اداکار نے پدم بھوشن، دادا صاحب پھالکے اور دو فلم فیئر ایوارڈ حاصل کئے۔ پنجاب کے ضلع گرداس پور میں پیدا ہوئے دیو آنند نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجوایشن کیا۔ فلموں کے شوق میں ممبئی چلے گئے۔ 1946 میں فلم   ہم ایک ہیں   سے انڈسٹری میں قدم رکھا۔ ان کی پہلی کامیاب فلم   ضدی   تھی۔ وہ چھ عشروں تک فلموں سے منسلک رہے اور اداکاری کے ساتھ ساتھ ہدایت کاری بھی کرتے رہے۔ بازی، ٹیکسی ڈرائیور، سی آئی ڈی، سولہواں سال، کالا بازار، بمبئی کا بابو، گائیڈ، دیس پردیس، ہرے راما ہرے کرشنا ان کی کامیاب فلموں میں شامل ہیں۔ وہ تین دسمبر دو ہزار گیارہ کو اٹھاسی برس کی عمر میں لندن میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ دیو آنند کی اداکاری کو دیگر فنکاروں سے منفرد بنانے میں ان کی ڈائیلاگ ڈلیوری کا بھی اہم کردار تھا۔ وہ جس منفرد انداز سے ڈائیلاگز ادا کرتے وہ ان کا ہی خاصہ تھا۔ گانوں کی عکسبندی میں بھی انہیں کمال حاصل تھا۔ وہ اس خوبصورت انداز میں گانوں کی عکسبندی کا کام مکمل کرواتے کہ دیکھنے والادنگ رہ جاتا۔ دیو آنند کی فلموں کی کامیابی اور مقبولیت کی ایک وجہ رومانویت پسندی تھی۔ وہ ایکشن کی بجائے رومانوی کرداروں کو زیادہ ترجیح دیا کرتے تھے اور اسی لئے ان کی فلموں میں ایکشن کی بجائے رومانس کا عنصر غالب دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان سے جانے کے باوجود دیوآنند کے دل سے پاکستان کی محبت ختم نہ ہوسکی۔ انہوں نے 1999 میں اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ دوستی بس پر پاکستان کا دورہ کیا اور واہگہ بارڈر پر اپنے خطاب میں دونوں ملکوں کے عوام کو دوستی اور پیار محبت کے ساتھ رہنے کی تلقین کی۔ ان کے جانے سے بالی ووڈ میں اداکاری کے میدان میں جو خلا پیدا ہوا وہ کبھی پورا نہیں ہوسکے گا۔
This entry was posted in تفریح, اہم خبریں. Bookmark the permalink.