حکومت نے عوام کو رعائیت دے دی۔ مہنگائی کا جِن بوتل میں بند۔ اسد عمر کا منی بجٹ کے 10 اہم ترین نکات۔ بینکنگ، زراعت، سرمایہ کاری، گاڑیوں کی خرید و فروخت، موبائل ٹیکس اور تمام نکات جانئے بادبان رپورٹ میں۔

بادبان رپورٹ
چھوٹے اور درمیانی سطح کے اداروں کے لئے سرمایہ کاری دیں گے اور شرح سود کو کم کروا کر بینک سے قرضے دلوائیں گے۔ 

زرعی قرضوں پر 39 فیصد سے کم کر کے اب  20 فیصد ٹیکس کر دیا گیا ہے۔ 
پانچ ارب روپے کی قرضِ حسنہ کی اسکیم لانے کا فیصلہ۔
فائلر پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم۔ 
تیرہ سو سی سی تک گاڑی نان فائلر لے سکتا ہے لیکن ٹیکس بڑھا رہے ہیں۔
پاکستان میں بزنس کرنا کتنا آسان اور کتنا مشکل، پاکستان 136 ویں نمبر پر۔ سال میں اب دو مرتبہ وِد ہولڈنگ ٹیکس ہو گا۔ 
شادی ہالوں پر ٹیکس 20 ہزار سے 5 ہزار روپے ۔
زیادہ تر خبریں ہمارے بارے میں اچھی خبریں نہیں چھپ رہی ہیں لیکن ہم حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں تو آزاد صحافت ، لفافے دے کر نہیں ، چینلز خرید کر نہیں ، آزاد کاروبار کر کے۔ اسلئے نیوز پرنٹ پر امپورٹ ڈیوٹی سے استثناء دی جاتی ہے۔ 
خام مال پر ٹیکس کم اور کئیں خام مال پر ٹیکس مکمل طور پر ختم۔
گرین فیلڈ کے پراجیکٹس پر تمام انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی چھوٹ ہو گی۔ 
رینیو ایبل انرجی پر سرمایہ کاری کرنے والے پر سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی کی مکمل چھوٹ۔ 
نان بینکنگ کمپنیز کا سوپر ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے۔ 
اٹھارہ سو سی سی گاڑیوں پر صرف ٹیکس بڑھایا جا رہا ہے۔ 
چھوٹے موبائلز پر ٹیکس کم کیا جا رہا ہے۔ 
یوریا کی بوری میں 200 روپے کی کمی کے لئے اقدامات کئے ہیں۔
ڈیزل انجن کے اعضا پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم کر دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کے حکم پر میڈیکل شعبے میں کچھ چیزوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ۔

اسد عمر: ایسا بجٹ لانا چاہتے ہیں کہ جس سے 5 سال بعد دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے۔ ایسے اقدامات کریں گے جن سے سرمایہ کاری آئے گی۔ گیس میں کبھی خسارہ نہیں ہواتھا ، ریکارڈ خسارہ ، ریلوے ، ریکارڈ خسارہ، پی آئی اے ، ریکارڈ خسارہ۔  تین ہزار ارب روپے مقروض کر کے چلے گئے مُلک کو۔ یہ منی بجٹ نہیں اصطلاحات کا پیکج ہے۔ مُلک کو آئی سی یو میں چھوڑ کر گئے تھے۔  ۔

۔