‘اسلام آباد میں خطرے کی بو سونگھی، بیان دینے کے بعد ذہن سے بوجھ اتر گیا’

خیال رہے گزشتہ روز سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ایک انٹرویو میں کہا لگتا ہے کہ اسمبلی مدت پوری نہیں کرے گی۔ انہوں نے ساری صورتحال کو مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ ایسے معاملات 2002 میں بھی نہیں دیکھے تھے۔ ان کا کہنا تھا مجھے لگ رہا ہے کچھ ہونے والا ہے لیکن یہ ملک کے مفاد میں نہیں، اللہ کرے اسمبلی مدت پوری کرے لیکن جو کچھ پچھلے دو تین مہینوں میں ہوا مجھے نہیں لگتا اسمبلی مدت پوری کرے گی۔

سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ مایوسی گناہ ہے مگر میں پہلی بار سیاست میں نہ امید ہوا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے ایک گریٹر پلان نظر آرہا ہے، ہو سکتا ہے کچھ لوگ استعفوں کی طرف بھی جائیں۔ ایاز صادق نے کہا پاکستان اس وقت دشمنوں سے گھرا ہوا ہے۔ پاکستان کو بیرونی خطرہ اندرونی خطرے سے کہیں بڑھ کر ہے، ہمیں متحد ہو کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ ایک پارٹی کے علاوہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں چاہتی ہیں کہ سسٹم نہ ٹوٹے اور حکومت مدت پوری کرے۔

دوسری جانب کیپٹن (ر) صفدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جب وزیراعظم مدت پوری نہیں کر پاتا تو اسمبلیاں کیسے کریں گی، اسپیکر کو بھی خدشہ ہے اسمبلیاں سازش کا شکار نہ ہو جائیں۔ انہوں نے کہا عمران خان ہر بات اپنے امپائر سے پوچھتے ہیں، دسمبر کا مہینہ ہے ہمیں سقوط ڈھاکہ سے سبق سیکھنا چاہئے۔ لیگی رہنما نے کہا اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں تو بہتر ہے، اسمبلی پر کوئی بھی وار ہوا تو بوجھ ریاست اٹھائے گی۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*