اعلیٰ جج صاحبان کی زبان ان کے منصب کی توہین ہے: نواز شریف

 

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ اعلیٰ جج صاحبان کی زبان ان کے منصب کی توہین ہے۔ ڈان، سسیلین مافیا اور گاڈ فادر جیسے الفاظ استعمال کیے گئے۔ اب چور ڈاکوؤں جیسے الفاظ کا استعمال ان کے منصب کی توہین نہیں۔ ’پھر گلہ ہم سے کیا جاتا ہے کہ ہم توہین کر رہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ایسے الفاظ سننے کو ملتے ہیں اور جملے کسے جاتے ہیں تو یہ کس کی توہین ہے۔ کیا اس طرح کا کوئی قانون ہے جس سے یہ بھی توہین کے زمرے میں آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاستدان عمران خان اور چیف جسٹس کی زبان میں کیا فرق رہ گیا ہے۔ ہمیں بتایا جائے سارا معاملہ ون سائیڈڈ نہیں ہوتا۔ ہر انسان کا ایک ضمیر اور ایک عزت ہوتی ہے، اپنی ضمیر کی آواز پر ایسی چیزوں کے سامنے کھڑا ہونا چاہیئے۔

نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ میں کسی کرپشن میں ملوث نہیں، یہ لوگ ٹیڑھی بنیاد پر 10 منزلہ عمارت تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اب یہ لوگ مجھے پارٹی کی صدارت سے بھی ہٹانا چاہتے ہیں۔ ’مشرف سے حلف لینے والے کیا ہمیں اخلاقیات کا درس دیں گے‘۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.