افغانستان سے حملے: مقاصد کیا ہیں؟

  (تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی ) افغانستان کی سرزمین سے پاکستانی علاقے میں پہلے بھی حملے ہوئے ہیں لیکن اب ان میں اضا فہ ہو گیا ہے ،پہلے یہ حملے چترال ،اپردیر اور لوئر دیر میں ہوتے تھے ،اب یہ مہمند ،خیبر اور باجوڑ ایجنسی میں شروع ہو گئے ہیں۔ پاکستانی عسکریت پسند تنظیمو ں کے لوگ سرحد پار موجود ہیں اور جب بھی ان کو موقع ملتا ہے ، وہ حملہ کر دیتے ہیں۔ پاکستان سرحد پر باڑ لگا رہا ہے اور وہاں موجود فوجیوں،ایف سی کے اہلکاروں اور سول لوگوں پر سنائپر گن سے فائرنگ ہوتی ہے ۔ افغان حکومت کا کہنا ہے کہ سرحد پر ان کی فوجی پوسٹیں قائم ہیں اور وہاں افغان فوجی بھی موجود ہیں لیکن اس کے باوجود حملے بھی ہورہے ہیں ،اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حملہ آوروں کو نہیں روکنا چاہتے اورپاکستان پر دبائو بڑھانے کیلئے چاہتے ہیں کہ حملے ہوتے رہیں۔افغان سرزمین کی ذمہ دار افغان حکومت اور غیر ملکی افواج ہیں جو وہاں پر قیام پذیر ہیں ،جن کی تعداد 16 ہزار ہے ۔ پاک فوج کے ترجمان نے تو کہہ دیا ہے کہ افغانستان میں ایک خلا ہے ،اس لئے حملے ہو رہے ہیں۔لیکن اس خلا میں جتنا اضافہ ہو رہا ہے ،اس سے حملوں میں اضافہ اور پاکستان کا مزیدنقصان ہو گا۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.