اقامے پر فارغ کرنے کی قانونی منطق

 

سپریم کورٹ نے 28 جولائی کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نا اہل کیا تھا اس فیصلے کو سمجھنے کے لئے دو الگ الگ تصورات ہیں۔ عوام اقامے کی بنیاد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم نہیں کر رہے کہ یہ چند درہم کی بات تھی اور عدالت نے وزیر اعظم پاکستان کو فارغ کر دیا لیکن پاناما کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا ۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اس چکر میں نہیں پڑے کہ نواز شریف نے کرپشن کی یا نہیں ۔ اس کا ثبوت ہے یا نہیں اور یہ الزام ثابت ہوتا ہے یا نہیں اس کے بجائے انہوں نے فیصلہ دیا کہ نواز شریف نے سچ نہیں بولا اور وہ صادق اور امین نہیں ہیں ۔ دو ججوں نے اپنے فیصلہ میں اقامہ کو بنیاد نہیں بنایا اسکی اپنی جگہ پہ اہمیت ہے ، اکثریتی فیصلہ کے مطابق نواز شریف پر کرپشن کے سنگین الزامات تھے تین قوانین کے تحت کرپشن کی ایک مخصوص تعریف کی گئی ہے۔

مثال کے طور پر کسی کے پاس دس کروڑ کی جائیداد ہے لیکن اس کے معلوم ذرائع آمدن تین کروڑ روپے ہیں کیا وہ نا اہل ہوسکتا ہے یا اسے کرپٹ قرار دیا جاسکتا ہے ؟۔ نیب قوانین کے تحت اس کا جواب اثبات میں ہے ہو سکتا ہے وہ کرپٹ نہ ہو ، مثال کے طور پر اس نے ٹیکس چوری کیا ہو ۔ ٹیکس چوری اور رشوت لینے میں زمین آسمان کا فرق ہے نیب کے قانون کے مطابق کرپشن، رشوت لینا یا ٹیکس نہ دینا دونوں کرپشن کے زمرے میں آتے ہیں ، اثاثے زیادہ ہوں اور ڈکلیئرنہ ہوں تو نا اہلی ہوسکتی ہے ۔ یہ ایک بنیادی بات تھی اکثریتی فیصلے کی بنیاد یہ تھی کہ انہوں نے کہا یہ کرپشن کے بڑے سنگین الزامات ہیں۔ کروڑوں ڈالر کی ٹرانزیکشنز ہو رہی تھیں یہ پیسہ کہاں سے آیا؟۔ نواز شریف نے کوئی ثبوت یا دستاویزات عدالت کو فراہم نہیں کیں ۔ اس کے لئے قانونی شواہد چاہئیں اس حوالے سے احتساب عدالت میں ریفرنس چل رہا ہے عدالت اس کا فیصلہ دے گی، اللہ جانتا ہے کہ کیا فیصلہ دے گی لیکن ا قامہ کی اہمیت اس لیے ہے کہ یہ غلط بیانی کا اعتراف تھا۔

اقامے پر فارغ کرنے کی قانونی منطق موجود ہے یہ اعتراف کیا گیا کہ غلط بیانی ہوئی ،غلط بیان داخل کیا گیا انہوں نے اس بنا پر نواز شریف کو نا اہل کیا لیکن عوام کہتے ہیں کہ یہ کوئی بات ہے کہ دس بارہ ہزار درہم کی خاطر وزیر اعظم کو نا اہل کردیا گیا ہے لیکن کرپشن 10 ہزار ہو یا 10 ارب اس پر فیصلہ ہوتا ہے ۔ کل کے فیصلے سے مسلم لیگ ن سینیٹ الیکشن سے آؤٹ ہوگئی ہے بظاہر یہ بات بلا جواز دکھائی دیتی ہے لیکن اس کی بھی منطق ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ آچکا ہے کہ نواز شریف کو عدالت نا اہل قرار دے چکی ہے ۔ جب فیصلہ آتا ہے تو دیکھا جاتا ہے کہ “آپریشنل فیصلہ ” کیا ہے ” اہل یا نا اہل قرار پائے ۔ یہ نہیں دیکھتے کہ اس کی بنیاد کیا تھی۔ جسٹس عبدالحمید ڈوگرکے فیصلے عوامی مفاد میں برقراررکھے گئے ، جسٹس ڈوگر کا لحاظ نہیں تھا یہ عوامی مفاد میں برقرار رکھے گئے تھے ۔ مثال کے طور پر ایک میاں بیوی کی شادی تھی اس پر جسٹس ڈوگر نے کوئی فیصلہ دیا اگر اس کو کالعدم قرار دیا جاتا تو یہ پبلک کو سزا مل رہی تھی ، اس لئے ان کے فیصلوں کو برقرار رکھا گیا۔

اس کے بر عکس نوازشریف کے پارٹی فیصلوں سے عوام کا تعلق نہیں تھا، نوازشریف کے پارٹی فیصلے ان کی ذاتی مرضی اور پسند کے تھے ،جہاں تک نااہلی کی مدت کے تعین کا تعلق ہے اس مسئلہ کی بنیاد کچھ اور ہے ۔18ویں ترمیم کے بعد آرٹیکل 62 اور 63 کی ڈرافٹنگ انتہائی ناقص کی گئی ہے ، ایسی ڈرافٹنگ میں نے زندگی بھر نہیں دیکھی ، لگتا ہے کسی سکول کے طالب علم یا پاگل نے یہ ڈرافٹ تیار کیا اس کو اس نا اہلی پر “گولڈ میڈل ” ملنا چاہئے ۔ آرٹیکل 62 اور 63 کا تجزیہ کریں تو پتہ چلے گا کہ اس کا سر ہے نہ پیر، یہ غیر منطقی اور مضحکہ خیز ہے اس بارے میں سپریم کورٹ کی صوابدید ہے وہ فیصلہ کریگی اس کے پاس جو آپشن ہیں ان میں ایک تا حیات نا اہلی ، دوسرا زیادہ سے زیادہ پانچ سال کے لئے اور تیسرا عدالت کی صوابدید۔ کیس کی نوعیت کے حوالے سے مدت کا تعین کیا جائے گا۔عدالت کون سا راستہ اختیار کرے گی یہ کوئی قیاس آرائی نہیں کرسکتا ۔ سپریم کورٹ اس معاملے کو پارلیمنٹ کو نہیں بھیج سکتی ۔ اٹھارویں ترمیم کے وقت پارلیمنٹ کے پاس ایک سنہری موقع تھا جو اس نے کھو دیا ۔ یہ ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی تھی اس میں آرٹیکل 62 اور 63 کو ری ڈرافٹ کیا گیا لیکن اس میں بھی غلطیاں اور حماقتیں کی گئیں مگر اس کی ذمہ دار پارلیمنٹ ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*