العزیزیہ ریفرنس: نوازشریف کا قطری شہزادے کے خطوط سے لاتعلقی کا اظہار۔ جج ارشد ملک کے ساتھ دلائل کی مکمل تفصیلات جانئے۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں اور نواز شریف آج مسلسل دوسرے روز عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 151 سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔

گزشتہ روز نواز شریف نے قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر پر استثنیٰ مانگا اور آج انہوں نے قطری شہزادے شیخ حمد بن جاسم آل ثانی کے خطوط کے حوالے سے کہا کہ ان سے میرا کوئی تعلق نہیں، کسی حیثیت میں کسی بھی ٹرانزیکشن کا حصہ نہیں رہا۔

نواز شریف نے کہا کہ میرا نام کہیں کسی بھی دستاویز میں نہیں، انہوں نے واجد ضیاء کے بیانات پر بھی اعتراضات اٹھائے اور کمرہ عدالت میں اپنے وکیل خواجہ حارث سے مشورہ کرتے رہے۔

سابق وزیراعظم نے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ 1999 میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد شریف خاندان کے کاروبار کا ریکارڈ قبضے میں لیا گیا اور ریکارڈ آج تک ایجنسیوں نے واپس نہیں کیا، لوکل پولیس اسٹیشن میں اس حوالے سے شکایت بھی درج کرائی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

نواز شریف نے کہا ‘جج صاحب ہمارے ساتھ یہ صرف 1999 میں نہیں ہوا، یہ ہمیشہ ہوتا آیا ہے، ہمارے خاندان کی درد بھری کہانی ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ 1972 میں پاکستان کی سب سے بڑی اسٹیل مل اتفاق فاؤنڈری کو قومیا لیا گیا، کسی نے نہیں پوچھا کہ کھانے کے پیسے بھی آپ کے پاس ہیں یا نہیں۔