‘اللہ نے عہدے انجوائے کرنے نہیں، خدمت کیلئے دیئے’

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں صاف پانی کی فراہمی اورنکاس کیس کی سماعت کے دوران وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ روسٹرم پرآئے توچیف جسٹس ثاقب نثار کاکہنا تھا کہ انکا مقصد لوگوں کوآلودہ پانی سےنجات دلاناہے۔

سماعت کے دوران وزیراعلیٰ کی جانب سے بولنے کی اجازت مانگنے ہرچیف جسٹس کاکہناتھا کہ پہلےدستاویزی فلم دیکھیں پھر بات کریں۔

کمرہ عدالت میں دستاویزی ویڈیودکھائے جانے کے بعدچیف جسٹس بولے وزیراعلیٰ صاحب ! حکومت نےلوگوں کی زندگیاں خراب کردیں، آپ وفاق کےبغیرمعاملہ حل نہیں کرسکتےتوبتائیں ہم مددکرتےہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواہش تھی کہ بلاول بھٹو بھی یہاں ہوتے، انہیں معلوم ہوتا لاڑکانہ کی کیا صورتحال ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ کوکرپشن کے خلاف قائد اعظم کا قول یاددلایا اور ان سے وعدہ بھی لیا کہ ایک سال کوئی غلط کام نہ کریں پھر یہ عادت ختم ہو جائے گی۔

اپنے وضاحتی بیان میں وزیراعلی سندھ نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ قابل عمل حقائق پیش کرینگے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اللہ نے آپ کو اور ہمیں عہدے انجوائے کرنےنہیں،خدمت کے لیے دیے ہیں۔

وزیراعلی نے استدعا کی کہ 6ماہ کی مدت میں مسائل حل نہیں ہوسکتے، عدالتوں کے بعض فیصلے کام متاثر کررہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا مسائل کے حل کیلئے عدلیہ کا کندھا استعمال کریں جس پر مرادعلی شاہ نے جواب دیا “ہمارے کندھے بہت مضبوط ہیں”۔

وزیراعلیٰ سے استفسار کیا گیا کہ وہ گھر میں رہتے یا وزیراعلیٰ ہاؤس میں۔ جواب میں بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ کنٹونمنٹ ایریا میں رہائش پذیر ہیں جہاں پانی ٹینکر سے آتا ہے۔جب ٹینکر کی قیمت کے حوالے سے سوال کیا گیا تو وزیراعلیٰ نے بلندآواز میں جواب دیا 5 سے 8ہزار میں ٹینکر ملتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا شاہ صاحب، کراچی کے شہریوں کی ٹینکرز سے جان چھوڑایں۔

سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ کواقدامات سے متعلق 23 دسمبر تک تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کاحکم دیدیا اورکہاکہ مصطفی کمال کو دوبارہ طلب کیا جائے گا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.