انسان کو عمر کے مختلف حصوں میں کتنے گھنٹوں کی نیند درکار ہوتی ہے؟

آج کے تیزی سے بھاگتے ہوئے دور میں نیند محض ایک ضرورت نہیں بلکہ ایک لگژری بن چکی ہے۔ خاص طور سے نوجوان نسل کے لیے ایک بھرپور نیند کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ انہیں دیر سے سونے کی عادت ہوتی ہے اور صبح سویرے سکول، کالج یا یونیورسٹی کے لیے انہیں جلد اٹھنا پڑتا ہے۔ نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے یہ دن بھر تھکاوٹ اور سستی محسوس کرتے ہیں۔ ان کی جسمانی کیفیت دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اتنے گھنٹے نہیں سوتے جتنے گھنٹے ان کے جسم اور دماغ کی ضرو

سوتے وقت موبائل فون قریب رکھنا خطرناک بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے

انسانی جسم اور دماغ کو تروتازہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ بھرپور نیند لی جائے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی عمر کے حساب سے آپ کو روزانہ کتنے گھنٹوں کی نیند لینی چاہئیے۔

طبی ماہرین کے مطابق شیر خوار بچوں کو چودہ سے سترہ گھنٹوں کی نیند درکار ہوتی ہے جبکہ ایک سال سے تین سال کی عمر کے بچے گیارہ سے چودہ گھنٹوں تک سو سکتے ہیں۔ تین سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کو دس سے تیرہ گھنٹوں کی نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔

چھ سے تیرہ برس کے بچوں کو دس سے تیرہ گھنٹے کی نیند کافی ہے۔ چودہ سے سترہ سال کی عمر کے افراد کے لیے آٹھ سے دس گھنٹوں کی نیند کافی ہے۔ اٹھارہ سے چونسٹھ سال کے افراد کو سات سے نو گھنٹے کی نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ پینسٹھ اور اس سے زائد عمر کے افراد کے لیے سات گھنٹوں تک کے لیے سونا چاہئیے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.