انٹرنیشنل گیم چل رہی ہے؟

مسلم لیگ ن جو کچھ کر رہی ہے ، اسے آ بیل مجھے مار کہنا مناسب ہے ۔ وہ شہید ہونے کے خواہاں ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ اپنی صفائی میں پیش کرنے کیلئے ان کے پاس کچھ نہیں ۔ انہیں اقامے پر سزا کی نہیں ، احتساب عدالت کے فیصلے کی فکر ہے ، جس میں پیش کرنے کیلئے قطری خط کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں ۔ قطری خط کے بارے میں سپریم کورٹ پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ وہ کاغذ کا پرزہ ہے ۔ صفائی کیلئے پاس کچھ نہ ہونے کے باعث ن لیگ نے ایک سیاسی بیانیہ بنا لیا ہوا ہے ۔ معمول کی مقدمے بازی میں دو فریق ہوتے ہیں ، شریف خاندان کے خلا ف کیس میں عمران خان کافی نہیں، لہذا عدلیہ کو خود معاملے میں پڑنے کی ضرورت ہے۔

شاہد خاقان عباسی خود کو ابھی تک وزیراعظم تک نہیں مانتے ، وہ نواز شریف کو اپنا وزیر اعظم قرا ردیتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ نواز شریف انہیں جو بھی ہدایت دیں گے ، اس کی پاسداری کریں گے ۔ دوسری جانب نواز شریف یہ کہہ کر معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کو شامل کر نے کی کوشش میں ہیں کہ عدالتیں سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر کر رہی ہیں۔ دراصل اس وقت ایک انٹرنیشنل کھیل چل رہا ہے ، جس میں ایک طرف مغربی طاقتیں ہیں جن کیساتھ بھارت ہے ، نواز شریف فرنٹ مین ہیں ۔ دوسری طرف روس، چین، شاید ایران اور ترکی بھی اس میں شامل ہو جائیں ۔ میاں صاحب کو اندازہ نہیں کہ وہ آگ کیساتھ کھیل رہے ہیں ۔

لودھراں میں کوئی اپ سیٹ نہیں ہوا ۔ جہانگیر ترین نے جو الیکشن جیتا تھا، اس میں تقسیم کیلئے پچاس پچاس روپے کی 80 ہزار پیٹیاں بنی تھیں ، اس مرتبہ ایسا نہیں ہوا ، کچھ موروثی سیاست کے مخالفت میں بھی ووٹ پڑا ۔ دوسرا پی ٹی آئی والے اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ وہ الیکشن جیتے ہوئے ہیں۔ انتخابی نتائج اور جلسے جلوسوں کے دباؤ میں جج نہیں آتے ، انہوں نے دنیا دیکھی ہوتی ہے ، وہ جانتے ہیں کہ ایک ایک جلسے پر پانچ سے چھ کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں اور یہ کہ جلسوں میں شریک ہونے والے لوگ مٹی کے مادھو ہوتے ہیں ۔ 5مارچ کو سینیٹ کے الیکشن ہیں ، نواز شریف کے خلاف جو بھی فیصلہ آیا ، 12مارچ سے پہلے آ جائے گا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*