آرمی چیف کی پارلیمنٹ بریفنگ‘ کیا واقعی وقت کی اہم ضرورت تھی

 

گزشتہ چند رو زقبل سینٹ کمیٹی کو بند کمرہ اجلاس میں بریفنگ کے دوران آرمی چیف نے کہاکہ فوج آئین پاکستان سے باہر کوئی کردار ادا نہیں کرے گی پارلیمنٹ اور حکومتی ادارے پالیسیاں بنائیں فوج عمل کرے گی۔ پارلیمانی نظام کے حامی ہیں جبکہ صدارتی نظام ملک کوکمزور کرتا ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ وہ پائیدارجمہوریت کے حامی ہیں جبکہ پارلیمنٹ ہی سب کچھ ہے۔ ہمارے آئین میں فوج کا جو کردار ہے اس سے مکمل مطمئن ہوں آرمی چیف نے ملکی تاریخ میں پہلی بار سینٹ کو قومی سلامتی سے متعلق بند کمرہ اجلاس میں سلامتی کے امور کا مجموعی جائزہ رپورٹ پیش کی تھی۔

اخباری اطلاعات کے مطابق آرمی چیف سے سوال پوچھا گیاکہ اسلام آباد میں دھرنا دینے والوں کو کھانا کون سپلائی کرتا تھا ‘ جس پر جنرل باجوہ نے کہا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے ان دھرنوں کے پیچھے فوج کا ہاتھ ہے تو وہ اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں گے۔دوسری طرف سینٹ کے ارکان نے یقین دلایا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور ملکی سلامتی کے لیے سویلین اور فوجی ادارے ایک ہی پیج پر ہیں اور اگر ملک کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو پوری قوم فوج کے شانہ بشانہ لڑے گی ۔

جنرل باجوہ نے کہا کہ 41 اسلامی ممالک کا اتحاد کسی ملک کیخلاف نہیں اور نہ ہی ایران، سعودی عرب کی لڑائی ہوگی نہ ہونے دیں گے پاکستان اس اتحاد میں شامل ہے جبکہ جنرل (ر) راحیل شریف اس اتحاد کے سربراہ ہیں پاکستان کی طرف سے پورے خلوص سے کوشش ہوگی کہ یہ اتحاد امت مسلمہ کی مزید تقسیم کا سبب نہ بنے۔بلا شبہ پاکستان کے اعلیٰ ترین پارلیمانی فورم پر آرمی چیف کی بریفنگ پہلی بار ہوئی ہے اور ایسے موقع پر ہوئی جب ملک میں سیاسی کش مکش عروج کی تمام منازل طے کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔سیاسی حلقے اپنے اپنے مفادات کے پیش نظر اداروں کے خلاف احتجاج اور الزمات کی پوچھاڑ کیے ہوئے ہیں ۔

آرمی چیف کی متذکرہ بالا بریفنگ سے بلا مبالغہ بہت سے ابہام اور شکوک و شبہات ختم ہوں گے جبکہ انتہائی اہمیت کی حامل بات یہ ہے کہ جمہوریت کے مستقبل پر ابہام جو گاہے بگاہے ہمارے سیاستدانوں کو بے چین کیے رکھتے ہیں ان اشکالات سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔اس وقت سسٹم کے استحکام کے لیے ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کچھ سیاسی پارٹیاں اور خود ساختہ تجزیہ کار ہیں جو فوج کا نام اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر تے ہیں۔ آرمی چیف کی اس منفرد بریفنگ کے بعد ان کے خدشات اور دوکانداری بھی ختم ہوتی نظر آ رہی ہے ۔مزید برآں آرمی چیف نے اس اہم بریفنگ میں یہ کہہ کر بات ہی ختم کر دی کہ ٹی وی پر تبصرہ کرنیوالے ریٹائرڈفوجی افسر ہمارے ترجمان نہیں ہیں۔

بلا شبہ پاکستان سلامتی کے تحفظ کے حوالے سے بیرونی جارحیت کے سنگین خطرات میں گھرا ہوا ہے اس بات کی نشاندہی آرمی چیف سمیت دیگر فورمز بھی کرتے رہتے ہیں۔ہماری اندرونی سکیورٹی اور امن و امان میں جو بہتر ی آئی ہے وہ بلامبالغہ ہماری سکیورٹی فورسز کا کریڈٹ ہے مگر اس کریڈٹ سے منتخب جمہوری حکومت کو بھی محروم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ نیشنل ایکشن پلان تمام سیاسی جماعتوں سمیت ملٹری اور سویلین اداروں نے تیار کیا جس کی بنیاد پر سکیورٹی فورسز کے آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا جو اب آپریشن ردالفساد کی صورت میں جاری ہے۔ بلاشبہ ملک کی معیشت کو سنبھالا دینے کی ذمہ داری بھی منتخب حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے جسے اپنے فرائض کی ادائیگی کیلئے استحکام کی ضرورت ہے مگر ہم یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ آ ج پاکستانی معیشت میں غیریقینی کی صورتحال سول اور عسکری قیادتوں کے ایک صفحے پر نہ ہونے کے تاثر کے باعث ہی پیدا ہوئی ہے۔

میں سمجھتا ہوں آج اولین ضرورت ملک کی سلامتی کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانے کی ہے جس کیلئے جملہ سیاسی جماعتوں سمیت عسکری قیادتوں کو چھوٹے چھوٹے اختلافات کو پس پشت ڈال کر اپنی تمام تر توجہ ملک کی سلامتی کے تحفظ کی ذمہ داری پر مرکوز کرنی ہوگی اسی طرح ملک کے وسیع تر مفاد میں میڈیا سے بالواسطہ یا بلا واسطہ منسلک خود ساختہ اداروں کے ترجمانوں کو شٹ اپ کال دینی ہوگی اسی طرح عساکر پاکستان سے ریٹائرڈ حضرات کو اپنے تبصروں میں احتیاط برتنی ہوگی کیونکہ یہ خود ساختہ مفاداتی تجزیہ نگار اداروں کے مابین اختلافات اور شکوک شبہات کی کیفیت والا ماحول پیدا کرنے میں بڑا کردار ہیں ان کے غیر مصدقہ تبصروں ،تجزیوں سے جہاں اداروں کے درمیان بد اعتمادی کی فضا جنم لیتی ہے وہی عوام کو بھی گمراہ کن مواد کی ترسیل ہوتی ہے جو کسی بھی لحاظ سے ملک کے مفاد میں نہیں ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*