آپریشن خیبر فور مکمل کرلیا گیا، ترجمان پاک فوج

جی ایچ کیو راولپنڈی میں میڈیا بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 15 جولائی سے خیبر فور آپریشن کیا تھا جو آج مکمل کر لیا گیا ہے، آپریشن بہت مشکل تھا لیکن اس  دوران 253 کلومیٹر کا علاقہ کلیئر کرایا گیا۔ راجگال اور شوال میں ایک ایک دہشت گرد ہمارے نشانے پر تھا اور وہاں زمینی اہداف حاصل کر لئے گئے ہیں، آپریشن کے دوران 52 دہشت گرد ہلاک اور 31 زخمی، جبکہ 4 نے خود کو فورسز کے حوالے کیا، اس دوران 2 سپاہی شہید جب کہ  6 زخمی بھی ہوئے۔ خیبر فور آپریشن کیلیے افغان سیکیورٹی فورسز سے بھی تعاون لیا گیا، آپریشن کے دوران 152 بارودی سرنگیں ناکارہ بنادی گئی ہیں۔ آئی ای ڈی بنانے کے ایک مواد پر میڈ ان انڈیا کا لیبل چسپاں ہے۔
کراچی کے حوالے سے ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ کراچی میں رینجرزکےآپریشن سےدہشتگردی میں کمی ہوئی، 2017 میں کراچی میں دہشت گردی کا ایک واقعہ پیش آیا،پولیس مضبوط ہوگی تو اسٹریٹ کرائم میں وقت کےساتھ کمی آئے گی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن شروع ہوا تو فاٹا کے بہت سے لوگ آئی ڈی پیز بن گئے لیکن 95 فیصد آئی ڈی پیز اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں، قبائلی علاقوں میں کلیئرنس کے بعد ترقیاتی مرحلہ جاری ہے، اس مرحلے میں 147 اسکول ،17 ہیلتھ یونٹس اور 27 مساجد قائم کی گئی ہیں۔ فاٹا کے بہت سے کیڈٹس پاک فوج میں تربیت لے رہے ہیں، اس کے علاوہ وہاں کے نوجوانوں کی رجسٹریشن کی جائے گی۔
پرویز مشرف سے متعلق میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پرویز مشرف پاک فوج کے سربراہ رہے ہیں، انہوں نے پاک فوج میں نمایاں کدمات سرانجام دی ہیں لیکن اب انہیں ریٹائر ہوئے بھی کئی برس ہوگئے ہیں۔ سیاست  سے متعلق پرویز مشرف بیان بحیثیت سیاست دان دیتے ہیں۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ راولپنڈی میں مسجد پر حملے کا نیٹ ورک پکڑا گیا، گرفتاردہشت گردوں کواین ڈی ایس اور”را” کی حمایت حاصل تھی، اس حملے میں اسی مسلک کے لوگ ملوث تھے، ان  کا مقصد ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دینا تھا۔ ہم متحد رہے تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں, علاقائی. Bookmark the permalink.