اپوزیشن کا احتجاجی جلسہ۔ کوئی بڑا بریک تھرو نہ ہو سکا

اپوزیشن کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹاؤن اور سانحہ قصور کے متاثرین کیلئے انصاف کی بنیاد پر احتجاج کیلئے مال روڈ پر جلسہ کس حد تک کامیاب رہا اس حوالہ سے تو کوئی دو آرا نہیں، جلسہ بظاہر اپنے کارکنوں اور متحدہ اپوزیشن کی حیثیت سے مسلم لیگ ن کے گڑھ لاہور میں سیاسی پاور شو کرنے میں کامیاب رہا مگر جس زور و شور سے اس احتجاجی جلسے کو حکومت کے خلاف بڑے خطرے کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا تو یہ احتجاجی جلسہ کوئی بڑا بریک تھرو کرنے میں ناکام رہا بلکہ اس تحریک کے نتیجہ میں اپوزیشن کے اندر احتجاجی مقاصد کے حوالہ سے یکسوئی اور انتخابات سے پہلے حکومت مخالف بڑے اتحاد کا تاثر بھی ختم ہو گیا۔ پی ٹی آئی کے لاہور میں جلسوں کے حوالہ سے گہری نظر رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ماضی میں تن تنہا اس سے بڑے اور جوش و جذبے سے بھرپور جلسوں کا انعقاد کرتی رہی ہے مگر اب عوامی تحریک، پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی مل کر بھی ان بڑے جلسوں کا مقابلہ نہیں کر سکیں اور اس کی بڑی وجہ اپوزیشن کی اہم جماعتوں اور قیادتوں کے اندر کے اختلافات اور تضادات تھے۔

اس مشترکہ احتجاجی ریلی کے حوالہ سے ایک اور چیز بھی سامنے آئی ہے کہ متفقہ حکمت عملی اور اعلانات کے حوالہ سے کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی جلسے کے پہلے مرحلہ میں سابق صدر آصف علی زرداری نے خطاب کیا اور سیاسی تکبر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں جب چاہوں حکومت کو گرا سکتا ہوں مگر ان کے خطاب میں سابق وزیراعظم نواز شریف پر تنقید کے سوا مستقبل کا کوئی پروگرام نہیں تھا ان کے بعد اس سارے عمل کے روح رواں اور عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری بھی حکومت کیخلاف کوئی بڑا اور واضح اعلان کرنے میں نا کام رہے جہاں تک عمران خان کی آمد اور تقریر کا تعلق ہے تو وہ بھی پنجاب حکومت خصوصاً وزیراعلیٰ شہبازشریف، سابق وزیراعظم نوازشریف اور پاناما کیس کے حوالہ سے گرجتے برستے نظر آئے اس ساری احتجاجی تحریک کی واحد کامیابی دراصل شیخ رشید کا قومی اسمبلی سے استعفے کا اعلان تھا جس احتجاجی تحریک میں مشترکہ حکمت عملی مقاصد میں یکسوئی اور یکجہتی کا یہ عالم ہو وہ پنجاب کی حکومت اور خصوصاً وفاق میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن کیلئے اطمینان کا باعث ہی قرار دی جا سکتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پنجاب حکومت اور مسلم لیگ ن اس احتجاجی جلسے سے قبل خاصی دباؤ میں تھیں اور ان کے بیانات سے پریشانی نظر آ رہی تھی لیکن اس احتجاجی اجتماع میں عوام کی حد تک لاتعلقی اور جوش و خروش میں کمی کی وجہ سے صوبائی حکومت اور مسلم لیگ ن کو ریلیف ملا ہے، دراصل احتجاجی تحریک مسلم لیگ ن کو پنجاب میں انتخابی حکمت عملی اور صوبے میں اپنی مقبولیت کے حوالہ سے وقت سے پہلے باخبر کرتی ہے۔ ایک اور پہلو جو نمایاں رہا وہ یہ کہ عمران خان، ڈاکٹر طاہر القادری، شیخ رشید، آصف زرداری اور دیگر قائدین کی حکومت کے خلاف تقاریر تو پرجوش تھیں مگر سامعین اور باہر نکلنے والے احتجاجی مظاہرین میں وہ جوش و خروش محسوس نہیں کیا گیا البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے انتخابات سے پہلے اسے سیاسی قوتوں کا ٹیسٹ میچ ضرور قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ تحریک انصاف اپنی طے شدہ حکمت عملی کے تحت پہلے ہی احتجاجی روش اختیار کرتے ہوئے حکومت کو دباؤ میں رکھے ہوئے ہے اور اس کا مسئلہ یہ ہے کہ آنے والے انتخابات تک اس پالیسی پر گامزن رہنا ہے جہاں تک پیپلز پارٹی کا سوال ہے تو پیپلز پارٹی کو لاہور اور پنجاب میں کوئی پذیرائی ملنے کا امکان نظر نہیں آتا۔

جہاں تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کے لیے انصاف کا سوال ہے تو اس جلسے کے بعد بھی یہ سوال کھڑا رہے گا اور بالآخر اس کا جواب یہی ٹھہرے گا کہ جب ملک میں عدالتیں آئین اور قانون کے مطابق کام کر رہی ہیں تو بیگناہ لوگوں کے قتل عام کا فیصلہ بھی انہی عدالتوں سے لیا جائے نہ کہ چوکوں، چوراہوں اور شاہراہوں پر سیاسی مقاصد کو پیش نظر رکھ کر بیگناہ لوگوں کے خون کو سیاسی نعرہ بنایا جائے۔ اگر واقعتا ڈاکٹر طاہر القادری ان شہدا کے خون سے انصاف چاہتے ہیں تو انہیں اب احتجاج کے بجائے آئین اور قانون کا راستہ اختیار کرتے ہوئے عدالتی عمل میں سنجیدگی ظاہر کرنی چاہئے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.