اپوزیشن کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا,آج پھر شورشرابہ، قومی اسمبلی کے باہر مسلم لیگ ن کا احتجاج، شاہراہ دستور پر دھرنا،وزیراعظم عمران خان کو بچہ بچونگڑا قرار دے دیا۔جن کی گھروالیاں اپنی مدت پوری نہیں کرتیں، ان کی حکومت بھی نہیں کرتیں۔مشاہد اللہ خان

مسلم لیگ ن کے ارکان قومی اسمبلی کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر شاہرہ دستور پر احتجاجی اجلاس، ایاز صادق نے اسمبلی کی کارروائی چلانے کے لیے شزہ خواجہ سے برقعہ مانگ لیا۔ شزہ کے توجہ نہ دینے پر ایاز صادق نے کہا کہ کسی کا برقعہ ہی دے دو۔ احتجاجی اسمبلی کی صدارت سابق اسپیکر ایاز صادق نے کی، اجلاس کا آغاز مرتضی جاوید عباسی نے تلاوت کر کے کیا۔

احتجاجی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماء مسلم لیگ ن رانا تنویر کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی گرفتاری غیرقانونی ہے۔ عثمان کاکڑ نے کہا کہ غیر جمہوری قوتوں نے تحریک انصاف کو مسلط کیا، الیکشن سے پہلے نواز شریف، مریم نواز کیخلاف فیصلہ دیا گیا۔ شہباز شریف کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں، جمہوری اور غیرجمہوری قوتوں کے درمیان ہے، ہم آئین کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ چیف الیکشن کمیشن اور نیب کے چیئرمین کو بھی مستعفی ہونا چاہیے۔

رہنماء مسلم لیگ ن شاہدہ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے باہر اجلاس کر کے بڑا اچھا لگ رہا ہے، نیب کی طرف سے انتقامی کارروائی کی جارہی ہے۔ میاں جاوید لطیف نے کہا کہ جس نے بھی ڈیلیور کیا اس کا حشر لیاقت علی خان اور بھٹو جیسا ہوا۔ نواز شریف بھی اب اس لسٹ میں شامل ہوگیا ہے۔ ہماری لڑائی سلیکٹڈ وزیراعظم سے نہیں یہ توبچہ بچونگڑا ہے۔ یہ ایسا بچہ ہے جو ایک درخت سے دوسرے درخت پر جاتا ہے۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ عثمان کاکڑ نے حقیقتوں سے پردہ اٹھایا ہے، نیب نے شہباز شریف کیخلاف بے بنیاد کیس بنایا۔ آصف کرمانی نے کہا کہ شہباز  شریف نے 10 سال قوم کی خدمت کی جھوٹے کیس میں گرفتار کیا گیا۔ برجیس طاہر نے پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے55 دنوں میں55 یوٹرن لیے۔

مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ جن کی گھروالیاں اپنی مدت پوری نہیں کرتیں، ان کی حکومت بھی نہیں کرتیں۔ اگر الیکشن درست ہوا تو ہر پولنگ اسٹیشن کی سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیو دکھائی جائے، الیکشن میں دھاندلی نہیں بلکہ نتائج تبدیل ہوئے۔ شہباز شریف نے پنجاب میں دن رات محنت کی، پہلے نواز شریف اور مریم نواز کو جیل میں ڈالا گیا اب شہباز شریف کو ڈال دیا گیا۔ نتائج تبدیل کر کے پپٹ کو وزیراعظم بنایا گیا۔

اپوزیشن کے دھرنے میں پیپلز پارٹی کے ارکان شامل نہیں ہیں۔ گزشتہ روز بھی شہباز شریف کی گرفتاری اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس نہ بلانے پر صوبائی اسمبلی کے باہر ن لیگ کے کارکنوں نے شدید احتجاج کیا جبکہ مرکزی گیٹ خار دار تاریں لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔ گیٹ نہ کھلنے پر اراکین پنجاب اسمبلی نے گیٹ کے سامنے دریاں بچھا لیں، اور زمین پر بیٹھ گئے۔ اس موقع پر ارکان کی جانب سے پارٹی قیادت کے حق میں نعرے بازی بھی کی گئی۔