اگر مجھے نااہل کیا تو پارٹی کا سربراہ نہیں بنوں گا، سیاست ہی چھوڑ دوں گا’

اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں کہا کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں پر بار بار ٹیکسز لگائے گئے، بجلی کی قیمت بھی اور سرکلر ڈیٹ بھی بڑھ گیا ہے، نواز شریف اور اسحاق ڈار نے اکانومی کیساتھ ظلم کیا، اسحاق ڈار اکنامک ہٹ مین ہیں، ملکی قرض مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف میں صلاحیت ہی نہیں، انہیں کبھی بھی وزیر خارجہ نہیں بنانا چاہئے تھا، خواجہ آصف امریکہ جا کر ڈو مور کہہ کر آ گیا ہے، خواجہ آصف نے ان ہی کا سارا بیانیہ آگے بڑھا دیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ مجھے الیکشن کمیشن یا سپریم کورٹ سے نااہل کرانا چاہتے ہیں، میرے کنٹمپٹ میں وارںٹ نکال رہے ہیں اور وہ انسداد دہشتگردی کی عدالتیں جو دہشتگردی کو کنٹرول کرنے کیلئے بنی تھیں، وہ بھی میرے پیچھے پڑی ہیں۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سارا ڈان لیکس کا ہی تسلسل ہے، ڈان لیکس پر حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا، سرل المیدا کیخلاف ایکشن نہیں ہوا تو ارشد شریف کیخلاف بھی نہیں ہونا چاہئے تھا۔ عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دھرنے کے دوران میری فون کالز آئی بی نے آن ایئر کیں، وزراء کے ناموں والی آئی بی کی رپورٹ بالکل ٹھیک ہے، آئی بی سے وہ کام نہ کرائے جائیں جو ان کے نہیں ہیں، حکمران اداروں کو انتقامی کارروایئوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور نے مجھ پر ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا ہے، قیامت کی نشانی ہے، دونوں بہن، بھائیوں نے ایک، ایک ارب کا ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہے، مجھ پر اتنے ہرجانے کے کیس ہو گئے ہیں کہ زرداری سے کہوں گا قرض حسنہ دیدیں، زرداری کے پاس ایک لاکھ ایکڑ زمین ہے، نیویارک، لندن اور دبئی میں محلات ہیں، زرداری سینما میں ٹکٹ بلیک کرتا تھا، اتنا پیسہ کدھر سے آیا؟ عمران خان نے مزید کہا کہ فریال تالپور ہر چیز میں پیسہ بنا رہی ہیں، عزیر بلوچ بھی فریال تالپور کو پیسے دیتا تھا، کیا ان کو نواز شریف پکڑے گا؟ سب ملے ہوئے ہیں، آصف زرداری نے لوگوں کو قتل کرایا، کوئی ان کیخلاف نہیں بول سکتا، فریال تالپور، مریم نواز شہزادیاں ہیں، خورشید شاہ کیخلاف پچاس ارب کی کرپشن کا کیس ہے، نواز شریف اور خورشید شاہ ملکر نیب کا چیئرمین لگاتے ہیں۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.