اہلِ خانہ کی مالی مشکلات دور کرنے کے لیے خاتون لوہار بن گئیں

  تفصیلات کے مطابق اسماء السید کو سخت مالی مشکلات اور حالات کی ستم ظریفی نے 26 سالہ خاتون کو لوہار کا پیشہ اپنانے پر مجبورکردیا ہے اور مالی بوجھ نہ اُٹھا سکنے والی اسماء اب لوہوں پر بھاری ضربیں لگانے کی مشقت اُٹھا رہی ہیں. عرب خبر رساں ایجنسی کے مطابق شمالی مصر کی رہائشی اسماء نے ایک ورک شاپ بنایا ہے جہاں وہ لوہے کے مختلف اوزار ڈھالتی ہیں جس کے لیے انہیں بھاری لوہے کی طاقت ور ضربیں لگانی پڑتی ہیں جو کہ خاتون ہونے کی وجہ سے مشکل ہوجاتا ہے جس کے باعث ان کے ہاتھ زخمی ہو گئے ہیں اور پٹھوں میں شدید درد رہنے لگا ہے. بہادر خاتون کا کہنا تھا کہ آبائی پیشہ ہونے کی وجہ سے مجھے کوئی دقت نہیں ہوئی اور میرا کام لوگوں کے معیار پر پورا اترا جس سے مجھے حوصلہ ملا اور اب میں اتنا کام حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے جس سے اپنے اخراجات اور ضروریات کو احسن طریقے سے نبھا لیتی ہوں جس کے باعث خود کو کافی مطمئن محسوس کرتی ہوں. شادی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خواہش ضرور ہے لیکن اس کا کوئی ادارہ نہیں ہے کیوں کہ مجھ پر کافی ذمہ داریاں ہیں اور شادی کی وجہ سے میں کام نہیں کرپاؤں گئی اور میرے گاہک بھی ٹوٹ جائیں گے جس سے میرے اہل خانہ دوبارہ مالی مشکلات میں آجائیں گے جو مجھے منظور نہیں.  
This entry was posted in بین الاقوامی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.