این ایچ اے (نیشنل ہائی وے اتھارٹی) کا موجودہ چئیرمین شہباز شریف کا فرنٹ مین تھا اور میٹروں بس سرو س میں کھربوں روپے کی کرپشن کرنے کے بعد نیب میں مطلوب ملزم ہے۔ مُراد سعید پہلے اُسے تو تبدیل کرے جس پر نیب کیسز اور اربوں روپے کی کرپشن کر چُکا ہے۔ این ایچ اے کے موجودہ افسران اور سابقہ ممبر فنانس کو گرفتار کیا جائے تو 700 ارب مل سکتے ہیں۔ اشرف تارڑ 70 ارب کی کرپشن نہیں 700 ارب روپے کی کرپشن کر کے گیا ہے۔ اُس کو مُراد سعید واپس لے کر آئے، کاغذات ہم مہیا کر دیں گے۔۔ اور تمام تفصیلات جانئے بادبان رپورٹ میں۔

بادبان رپورٹ
این ایچ اے میں  اشرف تارڑ نے70 ارب نہیں بلکہ 700 ارب روپے کی کرپشن کی اور وہ اب پاکستان کا سفیر ہے، اور کرپشن کا ریکارڈ ہم مہیا کر دیں گے۔

این ایچ اے کے موجودہ افسران اور سابقہ ممبر فنانس کو گرفتار کیا جائے تو 700 ارب مل سکتے ہیں۔
این ایچ اے میں نواز شریف کے گزشتہ پانچ سالوں میں صرف ارشد بھٹی سیکرٹری چند ماہ کے لئے لگا ، اس کے علاوہ  تارڑ تین ٹوپیاں پہن کر 57 ماہ کے لئے وزیر بھی رہا اور سیکرٹری بھی اور چئیرمین این ایچ اے بھی۔
نواز شریف کے جانے سے قبل وہ اہم پوزیشن پر باہر چلے گئے۔ خفیہ ایجنسیاں اُس وقت تک خاموش رہتی ہیں جب تک کرپشن میں وہ خود حصہ دار یا معاون کار ہوتی ہیں۔
جب ان کا حصہ اور چُسہ بند ہو جائے تو رپورٹیں کرتی ہیں۔ جس کے بارے میں قاضی عیسیٰ نے واضح طور پر کل اپنے فیصلے میں ان چیزوں کے بارے میں لکھا ہے۔
این ایل سی، ایف ڈبلو او، سابقہ دور میں کرپشن میں ملوث رہی ہیں اور معاون کار رہیں۔
مُراد سعید غلیظ ترین اور گندہ شخص ہے اور وہ عمران خان کا کیا ہے؟ احسن اقبال کا ردِ عمل۔