ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد جاوید عباسی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وراثتی سریٹفکیٹ کے حصول میں درپیش مسائل ، لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سریٹفکیٹ ایکٹ 2018 ، انسانی اعضاء کی پیوند کاری کے ترمیمی بل2018 ،سینیٹر زسراج الحق اور مشتاق احمد کے آئینی بل 2018 کے آرٹیکل 30 کی شق2 کو ختم کرنے ، سینیٹر محمد علی سیف کے آئینی ترمیمی 2018 ،سول ریوژنز بل2018 کے علاوہ محمد عتیق رفیق کی عوامی عرضداشت کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ تفصیلات جانئے بادبان رپورٹ میں۔

بادبان رپورٹ : ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد جاوید عباسی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وراثتی سریٹفکیٹ کے حصول میں درپیش مسائل ، لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سریٹفکیٹ ایکٹ 2018 ، انسانی اعضاء کی پیوند کاری کے ترمیمی بل2018 ،سینیٹر زسراج الحق اور مشتاق احمد کے آئینی بل 2018 کے آرٹیکل 30 کی شق2 کو ختم کرنے ، سینیٹر محمد علی سیف کے آئینی ترمیمی 2018 ،سول ریوژنز بل2018 کے علاوہ محمد عتیق رفیق کی عوامی عرضداشت کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد جاوید عباسی نے کہا کہ بہت سے بل التواء کا شکا ر ہو رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ محرک بل کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت ہے ۔ ایک اصول بنایا جائے اور محرک بل کو صرف ایک دفعہ موخر کرنے کی اجازت دی جائے ۔انہوں نے کہا کہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام سرکاری امور چھوڑ کر قائمہ کمیٹیوں میں بریف کیلئے آتے ہیں اور محرک بل نہ ہونے کی وجہ سے معاملے کوموخر کرنا پڑتا ہے ۔جب بھی آئینی ترمیم کی ضرورت ہو تو اس کا تفصیل سے جائزہ لے کر فیصلہ کرنا چاہیے اور اس حوالے سے ہمارا فرض بنتا ہے ملکی مفاد کو ملحوظ خاظر رکھا جائے ۔قائمہ کمیٹی نے وراثتی سریٹفکیٹ کے حصول میں درپیش مسائل کا تفصیل سے جائزہ لیا ۔ رکن کمیٹی فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ چیئرمین سینیٹ نے لاء ریفامز کمیٹی تشکیل دی ہے یہ معاملہ اس کو ریفر ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ اور سنی کے قوانین علیحدہ علیحدہ ہیں انہیں ایک جگہ لایا جائے ۔اگر بیوہ عورت دوسری شادی کرتی ہے تو قانون اور ہو جاتا ہے ۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ وراثتی سریٹفکیٹ کے حصول کے میکنزم کو آسان سے آسان بنایا جائے لوگوں کو سریٹفکیٹ کے حصول میں کئی کئی ماہ لگ جاتے ہیں ۔معاملہ عدالت کی بجائے نادرا ہی میں حل ہونا چاہیے وہاں کوئی طریقہ کار وضع کیا جائے ۔جس پر سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ایک قانون کے ہوتے ہوئے نیا قانون نہیں بنایا جا سکتا ۔ دنیا بھر میں وارثتی سریٹفکیٹ عدالت ہی سے جاری ہوتے ہیں۔ سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ جوڈیشل سے اختیارات لے کر ایگزیکٹو کو نہیں دینے چاہیں ۔سینئر ایڈوائز حاکم علی خان نے کہا کہ جن کیسز میں جھگڑا ہو ان کا فیصلہ عدالت کرتی ہے میری ذاتی رائے ہے کہ اس بل کی ضرورت نہیں ہے۔سیکرٹری قانون و انصاف جسٹس (ر) عبدالشکور پراچہ نے کہا کہ یہ قانون بہت فائدہ مند ہے بہت سے کیسز میں وارثتی سریٹفکیٹ کے حصول میں دشواری نہیں ہوتی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر شادی چھپائی ہو یا بچوں کے مسائل ہوں تو وراثتی سریٹفکیٹ حاصل کیا جاتا ہے جس میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں ۔ جس پر سینیٹر فاروق حامد نائیک نے کہا کہ بہتریہی ہے کہ پہلے چاروں صوبوں کو آن بورڈ لیاجائے پھر آگے بڑھا جائے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وزارت اپنے بل کا دفاع کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ۔ قائمہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں وزارت تیاری کے ساتھ آئے اس وقت فیصلہ کیا جائے گا کہ اس کیلئے پبلک ہیرنگ کرائی جائے یا اور طریقہ کار نکالا جائے۔ سیکرٹری قانون نے کہا کہ وفاقی وزیر قانون و انصاف سے مشاورت کر کے کمیٹی کو آگاہ کر دیا جائے گا۔ سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ کے انسانی اعضاء و ٹیشو ز کی پیوند کاری کے ترمیمی بل2018 کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بہت اچھا بل مگر بہت سی چیزوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے بھی حاصل کی جائے گی ۔ سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ نے کہا کہ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز نے بل کا تفصیل سے جائزہ لیا تھا اس کی رپورٹ ایوان میں بھی پیش کر دی گئی ہے ۔ وزارت ہیلتھ نے بھی اس پر اتفاق کیا ہے ۔ انہوں نے کہا مختلف ممالک نے بھی اس اس حوالے سے بل اختیار کر رکھے ہیں ۔ سری لنکا پوری دنیا میں آنکھوں کا عطیہ کرتاہے ۔سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ شناختی کارڈ میں آپشن دینے کا مقصد ہے کہ 18 سال کے بچے کو یہ اختیار دیا جائے جس کی سمجھ بوجھ ہی کم ہوتی ہے ۔ چیئرمین نادرا نے کہا کہ فارم میں اس چیز کو شامل کیا جا سکتا ہے میکنزم بنانا پڑے گا ۔ وزارت صحت کے انسانی اعضاء کی پیوند کاری کے حکام نے کہا کہ اس قانون کی وزارت قانون سے ویٹ کرائی گئی ہے لوگ رضا کارانہ طور پر دیں گے اس میں والدین اور رشتہ داروں کی اجازت سے ہی ڈونر بنتے ہیں ۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ کونسل کے20 ممبران ہوتے ہیں کونسل کو معاملہ ریفر کیا جائے جائزہ لے کر 2 ماہ میں رپورٹ فراہم کر دی جائے گی ۔ جس پر چیئر مین کمیٹی نے کہا کہ وزارت نیشنل ہیلتھ اور نادرا حکام فارم میں ترمیم کا ڈرافٹ تیار کرکے وزارت قانون کو بھیجیں ۔ قائمہ کمیٹی 2 ماہ بعد اس کا تفصیل سے جائزہ لے گی ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر زسراج الحق اور مشتاق احمد کے آئینی ترمیمی بل 2018 کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ آرٹیکل30 کی شق2 کو ختم کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 31 سے40 تک حکومت کی حکمت عملی کے متعلق ہے جس میں نسلی امتیاز کو ختم کرنا ، ماں ، بچے اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ، پسماندہ علاقوں کی ترقی ، انصاف کی فراہمی ، تعلیم ، خوراک اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کی ذمہ دار ریاست قرار دی گئی ہے ۔ آرٹیکل 30 کی شق2 سے مسائل پیدا ہوتے ہیں اس کو ختم ہونا چاہیے ۔ جس پر سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ بنیادی حقوق کی فراہمی اور پالیسی میں فرق ہوتا ہے شق کو ختم کرنے سے ہر معاملے پر مقدمہ بازی شروع ہو جائے گی ۔ بہتر یہی ہے کہ کوئی درمیانی راستہ نکالا جائے ۔ ایڈوائز وزارت قانون حاکم علی خان نے کہا کہ شق کو ختم کرنے سے بے شمار مسائل سامنے آئیں گے۔ ایک نیا قانون بنایا جائے جو ان مقاصد کو پورا کرے ۔ جس پر قائمہ کمیٹی نے معاملے کو آئندہ اجلاس میں موخر کر تے ہوئے ہم آہنگی پیدا کرنے کی ہدایت کر دی ۔ سینیٹر محمد علی خان سیف کے آئینی ترمیمی بل2018 کے حوالے سے کمیٹی نے فیصلہ کیاکہ محرک بل آج کے کمیٹی اجلاس میں بھی شریک نہیں ہوئے اگر آئندہ اجلاس تک بھی نہ آئے تو معاملے کو ختم کر دیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی نے محمد عتیق رفیق کی عوامی عرضداشت کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ میت کو جلد سے جلد دفنانا اس کا شرعی حق ہے سریٹفکیٹ کے بغیر میت کودفنانے پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی ۔ قائمہ کمیٹی نے عوامی عرضداشت کو ختم کر دیا ۔ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز فاروق ایچ نائیک، سراج الحق ، عائشہ رضا فاروق ، وسیم شہزاد ، ڈاکٹر غوث محمد خان نیازی ، ثناء جمالی ، میاں محمد عتیق شیخ کے علاوہ سیکرٹری قانون و انصاف جسٹس (ر) عبدالشکور پراچہ ، سینئرلیگل ایڈوائز وزارت قانون حکام علی خان ، سینئر جوائنٹ سیکرٹری وزارت داخلہ ، چیئرمین نادرا عثمان مبین ، چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی