ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد جاوید عباسی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کی طرف سے بھیجے گئے معاملہ برائے وارثتی( سکسیشن) سریٹفکیٹ کے حصول کو آسان بنانے کے حوالے سے میکنزم تیار کرنے پر عملدرآمد۔ تفصیلات جانئے بادبان رپورٹ میں۔

بادبان رپورٹ : ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد جاوید عباسی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کی طرف سے بھیجے گئے معاملہ برائے وارثتی( سکسیشن) سریٹفکیٹ کے حصول کو آسان بنانے کے حوالے سے میکنزم تیار کرنے ، قائمہ کمیٹی کی 5 ستمبر2018 کے اجلاس میں لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سریٹفکیٹس ایکٹ2018 بارے وزارت قانون و انصاف سے بریف کے علاوہ سینیٹر میاں رضاربانی کے آئینی ترمیمی بل 2018 کے آرٹیکل27 میں ترامیم ، سینیٹر سید محمد صابر شاہ کے آئینی ترمیم بل 2018 ، فیڈرل اوبیڈسمین انسیٹیوشنل ریفامز بل2018 ، سول ریوینژبل2018 میں لیمیٹیشن ، سول پروسیجر ترمیمی بل2018 ،محمد عتیق رفیق کی عوامی عرضداشت کے علاوہ لوگوں کے بلیک لسٹ میں نام شامل کرنے اور اس کی قانونی حیثیت کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔
وارثتی سریٹفکیٹ کے حصول کو آسان بنانے کے حوالے سے معاملے کا قائمہ کمیٹی نے تفصیل سے جائزہ لیا ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے حکومت کی طرف سے تیار کردہ نئے بل کا جائزہ بھی لیا تھا ۔ وارثتی سرٹیفکیٹ کے حصول میں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اب وقت بدل چکا ہے تمام چیزیں ایک جگہ اکھٹی ہونی چاہیے ۔ ایک سرٹیفکیٹ کے حصول کیلئے سالوں گزر جاتے ہیں ۔ اس حوالے سے قانون کو مزیدمو ثر بنانے کیلئے اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کونسل کو کمیٹی اجلاس میں مدعو کیا ہے تاکہ ان کے رائے حاصل کی جائے ۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر ڈاکٹرمحمد فروغ نسیم نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے عوامی نوعیت کے بل پر اچھی بحث کی ہے اور اچھی چیزوں کو زیر بحث لایا گیا ہے ۔ پارلیمنٹرین کو بھی وراثتی سرٹیفکیٹ کے حصول میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو عام عوام کا کیا حال ہوگیا ۔ نئے قانون کی وجہ سے 90 فیصدسرٹیفکیٹ آسانی سے مل جائیں گے ۔ ہمیں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہیے ۔ عدالت وراثتی سرٹیفکیٹ کیلئے نادرا سے فیملی ٹری لیتی ہے ۔ نادرا کی معلومات کے بغیر عدالت فیصلہ نہیں کر سکتی ۔ عدالتوں کے پاس بہت زیادہ کام ہے اور اس طرح کے کیسز میں لائنوں میں لگنا پڑتا ہے ۔ لیٹر ز آف ایڈمنسٹریشنز اور وراثتی سرٹیفکیٹ میں اگر کوئی جھگڑا یا مسئلہ ہوتو معاملہ عدالت ریگولیٹر سوٹ کو ریفر کر دیتی ہے جہاں سالوں لگ جاتے ہیں ۔10 فیصد جھگڑے والے کیسز کی وجہ سے90 فیصد آسان کیسز کو بھی لائنوں میں لگانا پڑتا ہے ۔رکن کمیٹی سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے کہا کہ چیئرمین نادرا نے کہا تھا کہ ہمارے پاس کپیسٹی بھی نہیں ہے اور نا ہی شفافیت پر گارنٹی دے سکتے ہیں ۔ رکن کمیٹی سینیٹرڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ نادرا کے پاس وفاق، نکاح اور برتھ سرٹیفکیٹ کا تمام ڈیٹا نہیں ہوتا ۔ سینیٹر میر حاصل خان بزنجو نے کہا کہ 60 فیصد سے زائد نکاح زبانی پڑھائے جاتے ہیں ان کا ریکارڈ ہی نہیں ہوتا ۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف نے کہا کہ نئے بل تیار کرنے میں ملک کی بار ایسوسی ایشنز سے تجاویز حاصل کی گئی ہیں اور نادرا سے بھی تفصیلی مشاورت کی ہے ایک یونٹ قائم کرنے سے سسٹم کو آسان بنایا جاسکتا ہے ۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کونسل کے نمائندوں نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ چونکہ یہ بل اسلام آباد کے علاقے تک کیلئے ہے بہتر ہوتا کہ اسلام آباد بار کونسل سے مشاورت کی جاتی ۔ وراثتی سرٹیفکیٹ دو ماہ میں مل جاتا ہے ۔ جو لوگ بیرون ممالک ہوتے ہیں ان کیلئے مسائل ہوتے ہیں تمام ورثا کو اکٹھا ہونا پڑتا ہے ۔ موجودہ قانون بہتر ہے ۔ ڈی جی نادرا نے کہا کہ پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر اسلام آباد میں قانون بنایا جائے بعد میں پورے ملک کو شامل کیا جاسکتا ہے ۔ جس پر سینیٹر رضاربانی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگ غلط معلومات کی بناء فیملی ٹری میں لوگوں کو شامل کر لیتے ہیں اس کے نتائج کتنے خطرناک ہو سکتے ہیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ نادرا میں لاکھوں لوگوں کے جعلی شناختی کا بنائے گئے ہیں ۔ نادرا اپنے بنیادی کام کو ٹھیک کر لے ۔ 5 فیصد لوگوں کو ریلیف دینے میں95 لوگوں کو مسائل سے بچایا جائے۔سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ نادرا نے ابھی تک یہ ہوم ورک بھی نہیں کیا کہ اس پر کتنی لاگت آئے گی اور وراثت کی تقسیم کیلئے کیا طریقہ کار رکھا گیا ہے ۔ جس پر ڈی جی نادرا نے کہا کہ شادی ، نکاح ، پیدائش اور وفات وغیرہ کا ریکاڈ لوکل حکومت کے پاس ہوتا ہے ۔ سسٹم کو آن لائن کیا جارہا ہے پھر یونین کونسل کی معلومات بھی نادرا کے پاس ہونگی ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یونٹ میں متعلقہ فیلڈ کے افسران بھرتی کیے جائیں گے ۔ کمپیوٹر پروگرامزہونگے اور جہاں مسائل ہونگے وہ کیسز متعلقہ سکیشن کو ریفر کر دیئے جائیں گے ۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایسا قانون تیار کیا جائے جس میں زیادہ سے زیادہ معاملات کوآسان کیا جائے اور اراکین کمیٹی کے تحفظات کو دور کرنے کیلئے چیزیں شامل کی جائیں ۔ معاملے کو آئندہ اجلاس تک موخر کیا جاتا ہے ۔ سینیٹر میاں رضاربانی کے آئینی ترمیمی بل2018 کے حوالے سے قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اس حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے حاصل کی جائے ۔ قائمہ کمیٹی نے سینیٹر سید محمد صابر شاہ کے آئینی ترمیمی بل2018 کا تفصیل سے جائزہ لیا ۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ قرآن مجید کیلئے جو کاغذ استعمال کیا جاتا ہے اس کے معیار کو مزید موثر بنایا جائے اور ایک سنٹرل اتھارٹی قائم کی جائے جو اشاعت ، تحریراور ترجمے کا خیال رکھے ۔ جس پر قائمہ کمیٹی نے وزارت قانون کو اس حوالے سے تجاویز تیار کرنے کی ہدایت کر دی ۔ فیڈرل اوبیڈسمین انسیٹیوشنل ریفامز بل2018 کے حوالے وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت اس بل کو حکومت سپورٹ نہیں کرتی لہذا بل واپس کر دیا گیا ۔ سول ریوینژبل2018 میں لیمیٹیشن کے حوالے وفاقی وزیر ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا کہ سی پی سی میں ترامیم تجاویز کی جارہی ہیں شائد ان کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ قائمہ کمیٹی نے معاملہ تب تک موخر کر دیا ۔ محمد عتیق رفیق کی عوامی عرضداشت کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے اس پر پہلے تفصیلی بحث کی ہے بہتر یہی ہے کہ وزارت داخلہ اس حوالے سے رائے فراہم کرے ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لوگوں کے نام بلیک لسٹ میں شامل کرنے اور اس کی قانونی حیثیت کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا ۔ سینیٹرز میاں رضاربانی ، مصطفی نواز کھوکھر ،مصدق مسعود ملک اور عائشہ رضافاروق نے کہا کہ کس قانون کے تحت لوگوں کے نام بلیک لسٹ میں شامل کیے جاتے ہیں ۔ کہاں سے ہدایت آتی ہے کہ لوگوں کو ملک سے باہر جانے سے روکا جائے اور اس حوالے سے کس قانون کے تحت یہ اقدامات اٹھائے جاتے ہیں ۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ ایوان بالاء کی انسانی حقوق کمیٹی میں پارلیمنٹرین کے سفر کرنے پابندی کے حوالے سے وزارت داخلہ سے پوچھاگیا کہ تو بتایا گیا کہ ای سی ایل کے علاوہ کوئی قانون نہیں ہے جس میں لوگوں کے بنیادی حق پر پابندی عائد کی جائے ۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے کے پاس ایک فہرست PNIL ہوتی ہے جس میں لوگوں کو ایئر پورٹ پر روکا جاتا ہے یہ فہرست عدالت کے حکم پر بنائی جاتی ہے ۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ آئندہ اجلاس میں سیکرٹری داخلہ ، ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی جی پاسپورٹ سے ون ایجنڈا میٹنگ کر کے تفصیلی بریفنگ حاصل کی جائے کہ کس قانون کے تحت لوگوں کو سفر کرنے سے روکا جاتا ہے ۔ کس اتھارٹی کے تحت یہ پابندی لگائی جاتی ہے اور کتنے لوگوں کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے اور ہدایات کہاں سے حاصل کی جاتی ہیں ۔ قائمہ کمیٹی نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ ایوان بالاء کی انسانی حقوق کی کمیٹی اور وزارت انسانی حقوق کے وزیر،وزیر داخلہ، سیکرٹری داخلہ ، ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی جی پاسپورٹ بھی کمیٹی اجلاس میں شرکت کریں ۔ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز میاں رضاربانی ، میر حاصل خان بزنجو، سراج الحق ، عائشہ رضافاروق ، مصدق مسعود ملک ، ڈاکٹر غوث محمد خان نیازی ، مصطفی نواز کھوکھر، ثنا جمالی ، ڈاکٹر شہزاد وسیم ، سید محمد صابر شاہ کے علاوہ وفاقی وزیر قانون و انصاف ڈاکٹر محمد فروغ نسیم ، سینئر ایڈوائز وزارت قانون ملک حاکم علی خان، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت قانون ،ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ ، ڈی جی نادرا اور دیگر