ایچ ای سی کی بھی طلباء کا ڈیٹا حساس اداروں کو دینے کی مخالفت

ایچ ای سی کی پندرویں سالگرہ کی تقریب کے موقع پر پریس کانفرنس میں ڈاکٹر مختار احمد کا کہنا تھا کہ جامعہ کراچی کے طالب علموں کا ڈیٹا حساس اداروں کو فراہم کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما خواجہ اظہار الحسن پر ہونے والے حالیہ حملےمیں کراچی یونیورسٹی کے سابق طالب علم کریم سروش صدیقی کے مبینہ کردارکے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہماری جامعات اور الحاق شدہ کالجوں میں 3 ملین سے زائد طالب علم پڑھتے ہیں جن میں سے صرف چند طالب علم گمراہ ہیں لہذاہماری جامعات کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اپنے طالب علموں پر نظر رکھنا جامعہ کراچی کی ذمہ داری ہے۔

چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ ’طالب علم چار سالہ بی ایس پروگرام میں داخلہ لیتے ہیں مگر سات سال بعد بھی کورس مکمل نہیں کرپاتے، جامعہ اس بات پر نظر کیوں نہیں رکھتی کہ سات سال کے دوران طالب علم کلاسیں اٹینڈ کررہا تھا یا نہیں؟ میں تمام والدین اور اساتذہ سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ ہوشیار رہیں اور طالب علموں پر گہری نظر رکھیں‘۔

ایچ ای سی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر ارشد علی، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائریکٹر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ ملک کا اعلیٰ تعلیم کا شعبہ درست سمت پر ہے اور گذشتہ 15 سال کے دوران ایچ ای سی نے بہت سی کامیابیاں سمیٹی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم بہتری کی جانب گامزن ہیں لیکن میں اتفاق کرتا ہوں کہ معیارِ تعلیم کا مسئلہ موجود ہے اور جامعات کو اس پر توجہ دینے کی ہدایت دی گئی ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’2002 میں ملک میں صرف 59 جامعات، کُل داخلوں کی 2.6 فیصد شرح، 800 اشاعتوں اور 3 ہزار 110 پی ایچ ڈیز کے ساتھ ایچ ای سی نے اپنا سفر شروع کیا تھا اور اب یہ سلسلہ 188 اعلیٰ تعلیمی اداروں، 9 فیصد کُل داخلوں کی شرح، 12 ہزار اشاعتوں اور 11 ہزار 960 پی ایچ ڈیز تک پہنچ چکا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ایچ ای سی کی جانب سے برابر مواقع کی فراہمی کے بعد خواتین کی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کی شرح 32 فیصد سے بڑھ کر 48 فیصد ہوچکی ہے۔

ڈاکٹر مختار احمد کے مطابق کمیشن پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے سے مکمل فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور اس روٹ کے ساتھ ریسرچ سینٹرز کے قیام کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.