بغاوت نہیں اختلاف کیا ہے، پارٹی کو نقص

سابق وزیر داخلہ چودھری نثار نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سی باتیں مجھ سے منسوب کی جا رہی ہیں ، میرے حوالے سے ایسے فقرے سامنے آئے جن کا تعلق مجھ سے نہیں تھا، میری تقریر کو بنیاد بنا کر طرح طرح کی باتیں کی گئیں ، بہت سی باتیں مجھ سے منسوب کی جا رہی ہیں، صرف یہ کہا تھا چکری میں نواز شریف سے اختلافات کی بات کروں گا، میں نے تمام باتیں سیاسی کیں، ذاتی نہیں تھیں، میں نے کب یہ کہا کہ یہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔

 

ن لیگ کے ناراض رہنماء کا کہنا تھا کہ اس وقت نارمل حالات نہیں ہیں، میں الیکشن مہم میں ہوں، 4 سیٹوں پر الیکشن لڑنا آسان نہیں ہوتا، حلقے کی عوام سے 1985 سے تعلق ہے ، 25 جولائی کو عوام کا فیصلہ سب کے سامنے آجائے گا، میرا یہ طرز سیاست نہیں کہ دوسروں پر ذاتی طنز کروں۔

 

چودھری نثار کا اپنی دھواں دار پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ نوازشریف کو 34 سال دل سے مشورہ دیا، ہاں سے ہاں ملانا وفاداری نہیں ، میرے لئے وفاداری یہ نہیں کہ ہاتھ باندھ کر لیڈر کی ہاں میں ہاں ملاؤں، میں کسی اور نہیں، صرف نواز شریف کی بات کر رہا ہوں، میں مریم نواز یا پارٹی کی بات نہیں کر رہا، بیگم کلثوم نواز کی صحتیابی تک اختلافات کی وجہ بیان نہیں کروں گا۔ چودھری نثار علی خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اختلافات حد سے بڑھے تو خود کو وزارت سے الگ کر لیا۔ شاہد خاقان اور شہباز شریف میرے پاس آئے، میں نے شاہد خاقان عباسی سے کہا کابینہ میں نہیں آؤں گا، میں کسی آوارہ بس کا مسافر نہیں، اردگرد کسی بس کی طرف نہیں دیکھا۔

 

چودھری نثار نے واضح کیا کہ نواز شریف اور دوسروں کے ساتھ ملکر پارٹی کی بنیاد رکھی، نواز شریف یا ن لیگ کو نقصان پہنچانے کی سوچ بھی نہیں سکتا، بوجھل دل کے ساتھ نواز شریف کی پارٹی صدارت کے بل پر ووٹ کیا، سیاست کا میرا اپنا طریقہ کار ہے، سینیٹ کی نشستوں کی بندربانٹ پر بھی نہیں بولا، ممبئی حملوں پر نواز شریف کا بیان آیا تو پھر بھی میں سوچ سمجھ کر بولا، آزاد کیوں کھڑا ہوا؟ جلد پریس کانفرنس میں بتاؤں گا۔ چودھری نثار نے کہا کہ زندگی بھر ٹکٹ کیلئے اپلائی نہیں کیا اب کیوں کرتا؟ سروے میں پی ٹی آئی کے لوگوں نے بھی مجھے ووٹ دینے کی بات کی، ن لیگ چھوڑنی ہوتی تو عمران خان کی اوپن آفر تھی، آزاد کھڑے ہونے پرعمران خان نے امیدوار مقابلے میں نہ اتارنے تک کا کہا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مشکل دور سے گزر رہا ہے ، پاکستان کو بند گلی میں دھکیلنے کی سازش ہو رہی ہے، میڈیا افراتفری پر ہی توجہ نا دے بلکہ اس طرف بھی دھیان دے، آرمی چیف افغانستان گئے،اگلے دن میں نے کہا خوف آ رہا ہے ضرور کچھ ہو گا، اگلے دن ملا فضل اللہ مارا گیا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.