بلوچستان میں اپنی نوعیت کا واحد جنگل

اس علاقے کی سب سے بڑی خاصیت تو یہ ہے کہ یہ دنیا کا پہلا اور واحد جنگلی حیات کا ایسا علاقہ ہے، جو اس شہر سے قریب ہے۔ ہزار گنجی پارک میں انتہائی قیمتی جونیپر کے درخت ہیں اور ایسی ہزاروں خود رو جڑی بوٹیاں ہیں جو ایلوپیتھک اور ہومیو پیتھک ادویہ میں کام آتی ہیں، مثلاً یہاں بخار کے لیے ایک اکسیر بوٹی ہے، جسے مقامی زبان میں کلپورا کہا جاتا ہے، یہی کال پول کے نام سے بخار کے لیے نہایت کامیاب دوا کے طور پر مارکیٹ میں برسوں سے موجود ہے۔

اس طرح بسکو پان ہے جو مقامی بوٹی آئسو نائیڈ سے تیار کی جاتی ہے، غرضیکہ ایسی لاتعداد جڑی بوٹیاں ہیں جو یہاں موجود ہیں ان میں بہت سی بوٹیوں پر تحقیق بھی کی جا رہی ہے۔ ہزار گنجی میں چلتن مار خود بھی ملتا ہے جو دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا واحد مارخور ہے۔ مارخور کو مقامی محکمہ جنگلات نے برسوں کی محنت کے بعد تحفظ دیا ہے۔ جونیپر کے درختوں کو بھی بڑی مشکل سے تحفظ ملا ہے۔ یہ درخت سال بھر میں ایک ڈیڑھ انچ بڑھتا ہے، مگر لوگ اسے بیدردی سے کاٹ کر تباہ کر رہے ہیں۔ یوں ایشیا بھر میں جونیپر کا یہ سب سے بڑا جنگل اپنی حیثیت سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔

1555 ایکڑ پر محیط ہزار گنجی نیشنل پارک میں کالا اور پیلا کوبر اور دوسرے سانپ، بھیڑیے، لومڑیاں، گیدڑ، جنگلی بلیاں، بندر سے مشابہہ ایک جانور افغان کچھوے اور چکور خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ کسی وقت یہاں لگڑ بگڑ جیسے خونخوار جانور بھی پائے جاتے تھے جو شکاریوں کے شوق کے سبب ناپید ہو گئے۔

جنگلی دنبے بھی ہیں اور سی سی (خاردار چوہا) بھی یہاں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ مارخور دنیا بھر میں صرف پاکستان میں اور یہاں بھی صرف بلوچستان کے علاقہ کوہ چلتن میں پایا جاتا ہے۔

1980ء میں ہزار گنجی کو نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا تھا۔ ایک وقت تو وہ بھی آیا جب یہ تعداد صرف 15 تھی اور صرف پاکستان میں پائے جانے والے اس جانور کی نسل دنیا سے ناپید ہونے کو تھی۔ بہرحال نیشنل پارک قرار دیئے جانے کے بعد یہاں جنگلی حیات کا عجائب گھر اور دو ریسٹ ہاؤس بنائے گئے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*