بلوچستان میں سی پیک روٹ کو محفوظ کے لیے ایک نئ کمانڈ کی تشکیل کی جائیگی جس کی کمان ایک الگ کورکمانڈر کرے گا۔ اس کور کا ہیڈ کوارٹر تربت ہو گا۔ میں یہاں بتاتا چلوں کہ اس چیز کا خیال سب سے پہلے جنرل راحیل شریف صاحب کو آیا تھا جنہوں نے چینی صدر شی چن پنگ کے دورہ پاکستان کے موقع پر سی پیک کی حفاظت کے لیے ایک نئی کور تشکیل دینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ لیکن ضرب عزب آپریشن اور آپریشن ردالفساد کے علاوہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے باعث یہ کام سست ہو گیا تھا۔ اب فوج کی طرف سے تمام کام انتظامی بنیادوں پر حل کر لیے گئے ہیں، اور کور ہیڈ کوارٹر کا صدر مقام تربت کو چنا گیا ہے۔ ان شاء اللہ یہ وہی ہیڈ کوارٹر ہے جہاں سے دہشتگردوں کے خلاف آپریشنل کاروائیوں کا آغاز ہو گا۔ اور بلوچستان کا امن برباد کرنے والے راء کے پالتو کتوں کو نشان عبرت بنایا جائے گاراب