‘بلوچستان کی سیاسی جماعتیں نئے قائد ایوان کے نام پر متفق’

ذرائع کے مطابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی دوڑ میں عبدالقدوس بزنجو سب سے آگے ہیں کیونکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور ق لیگ کے منحرف اراکین نے ان کے نام پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم حتمی اعلان کچھ دیر بعد پریس کانفرنس میں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق عبد القدوس بزنجو کو بی این پی مینگل اور عوامی، اے این پی، جے یو آئی اور ق لیگ کے ارکان کی بھی حمایت حاصل ہے۔

بلوچستان کے سابق وزیرِ اعلیٰ نواب ثنا ﷲ زہری کے استعفیٰ کے بعد نئی حکومت سازی کیلئے جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔ میر عبد القدوس بزنجو، سرفراز بگٹی، میر خالد خان لانگو، سردار صالح بھوتانی، میر عاصم کرد گیلو اور جان جمالی نئے وزیرِ اعلیٰ کی دوڑ میں شامل ہیں۔

گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے نواب ثنا اللہ زہری کی جگہ نئے وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کے لئے صوبائی اسمبلی کا اجلاس 13 جنوری کو طلب کر لیا ہے۔

گزشتہ روز میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں سابق وزیرِ اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے روح رواں اور مسلم لیگ (ق) کے رہنما میرعبد القدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ حکومت سازی کا معاملہ آئندہ تین چار روز تک طے کیا جائے گا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے قائد ایوان کے لئے حکومتی اراکین اور متحدہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مشاورت اور رابطے جاری ہیں۔ عبد القدوس بزنجو نے کہا کہ نئے قائد ایوان کے انتخابات کے لئے مسلم لیگ نواز اور مسلم لیگ قائد اعظم کے مشترکہ اجلاس میں نئے قائد ایوان کے لئے چار ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔ کل تک دونوں جماعتوں کے ارکان ان میں سے کسی ایک کے نا م متفق ہو جائیں گے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*