بچوں کے پھیپھڑوں میں وائرس کی اموات میں پاکستان سرِفہرست

ماہرین نے رسپائٹری سنسیشیئل وائرس (آر ایس وی) سے بچاؤ کی مؤثر ویکسین تیار کرنے پر زور دیا ہے تاکہ ہرسال ہونے والی قریباً 115,000  اموات کو ٹالا جا سکتا ہے۔
آر ایس وی عموماً چھ ماہ تک کے بچوں کو زیادہ شکار بناتا ہے اور ان میں سے 99 فیصد بچوں کا تعلق ترقی پزیر ممالک سے ہے۔ پاکستان کے علاوہ باقی ملکوں میں بھارت، چین، نائجیریا اور انڈونیشیا شامل ہیں اور پوری دنیا کے نصف سے زائد آرایس وی کے کیس ہوتے ہیں۔ تاہم باضابطہ اعدادوشمار کی عدم موجودگی کی وجہ سے انفیکشن کے واقعات اور اموات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر سال 30 لاکھ سے زائد چھوٹے بچوں کو اسی وائرس کی وجہ سے اسپتالوں میں داخل کیا جاتا ہے جو سانس میں تنگی اور سینے میں جکڑن کے شکار ہوتے ہیں۔ پوری دنیا میں آر ایس وی کے مرض کی درست اور احتیاطی تدابیر اس سروے کا اہم مقصد ہے۔ اس لحاظ سے یہ رپورٹ اب تک کی سب سے جامع رپورٹ بھی ہے۔
واضح رہے کہ آر ایس وی کا وائرس بہت تیزی سے پھیلتا ہے اور شروع میں نومولود بچوں میں سردی لگنے کے آثار نمایاں ہوتے ہیں جبکہ بعد میں پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں اور بچہ سانس لینے میں دقت محسوس کرتا ہے۔ اس کے بعد نمونیا بھی لاحق ہو جاتا ہے جس سے بچے کی موت واقع ہو سکتی ہے۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.