بھارتی سوفٹ ویئرز سے پاکستان پوسٹ کو 30 کروڑ کا نقصان

محکمہ ڈاک (پاکستان پوسٹ) میں بھارتی کمپنی کے سوفٹ ویئر استعمال کرنے سے پانچ سال کے دوران ادارے کو 30 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔پاکستان پوسٹ میں سابق اور موجودہ افسران کی سرمایہ کاری کے باعث سوفٹ ویئر کے معاہدے کی مدت ختم ہونے سے قبل تجدید کی کوشش شروع کر دی گئی۔پاکستان پوسٹ میں کمپیوٹر میں ریکارڈ محفوظ کرنے کے لئے 2 سوفٹ ویئرز استعمال کیے جارہے ہیں۔ ایک سوفٹ ویئر ٹیل کنیکٹ اور دوسرا 360 کے نام سے ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ٹیل کنیکٹ میں محکمے کے موجودہ اور سابق ملازمین، مالیاتی امور،سیونگ بینک اکاؤنٹس کی دیکھ بھال اور دیگر امور کا ریکارڈ محفوظ رکھا جاتا ہے۔دوسرے سوفٹ ویئر 360 میں ڈاک کا نظام اور دیگر امور محفوظ کیے جاتے ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ ٹیل کنیکٹ کا نظام دبئی سے چلایا جاتا ہے ۔ یہ کمپنی بھارتی شہری کی ملکیت ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ سوفٹ ویئر کمپنی سے پاکستان پوسٹ کا معاہدہ 2012 میں ہوا تھا۔ اس وقت پاکستان پوسٹ کے ڈی جی راجہ اکرام الحق تھے ۔ ان میں سے ہر سوفٹ ویئر کمپنی کے نمائندے کو بڑے شہر میں جی پی او میں تعینات کیا گیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ دونوں سوفٹ ویئر کمپنیز کا مین سرور اسلام آباد میں ہے اور انہیں ہر شہر میں ویب کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ محکمے نے ٹیل کنیکٹ سوفٹ ویئر سے ماہانہ ساٹھ لاکھ روپے منافع ظاہر کیا جبکہ اس کمپنی کو ہر ماہ ایک کروڑ دس لاکھ روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ یوں ادارے کو ہر ماہ پچاس لاکھ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ ٹیل کنیکٹ سوفٹ ویئر کمپنی میں محکمہ ڈاک کے موجود ہ اور سابق افسران کی سرمایہ کاری بھی ہے اور ان افسران کے ساتھ سول بیورو کریسی کے افسران بھی حصہ دار ہیں۔ روزنامہ دنیا نے ڈی جی پاکستان پوسٹ روبینہ طیب سے رابطے کی کئی بار کوشش کی مگر ان کے عملے نے ہر بار یہی بتایا کہ وہ یا تو میٹنگ میں ہیں یا پھر دفتر سے باہر ہیں۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.