تمام فوجی سربراہان کے ساتھ مخاصمت کا تاثر درست نہیں، نواز شریف

 برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ قانون کی حکمرانی پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور اگر کوئی قانون کی حکمرانی پر یقین نہیں رکھتا تو وہ اس سے اتفاق نہیں رکھتے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ تمام فوجی سربراہان سے ان کی مخاصمت رہی ہے، کچھ فوجی سربراہان کے ساتھ ان کی بہت اچھی بات چیت تھی اور ان کے ساتھ وہ بہت اچھے رہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے 28 جولائی کو پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے میاں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے نااہل قرار دیا تھا جس کے بعد انہوں نے وزارت عظمیٰ سے فوری استعفیٰ دیتے ہوئے وزیراعظم ہاؤس خالی کیا۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے نوازشریف کو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ لہٰذا صدر مملکت نئے وزیراعظم کے انتخاب کا اقدام کریں۔

سابق وزیراعظم نے نااہلی کے بعد قافلے کی صورت میں لاہور میں واقع اپنی رہائش گاہ جانے کا اعلان کیا اور 9 اگست کو پنجاب ہاؤس سے ریلی کی شکل میں لاہور کی جانب روانہ ہوئے اور 4 روز میں سفر طے کرنے کے بعد اپنی رہائشگاہ رائیونڈ پہنچے۔

سفر لاہور کے دوران سابق وزیراعظم نے مختلف مقامات پر قیام کرتے ہوئے کارکنان سے خطاب کئے، نواز شریف نے کارکنان سے سوال کیا کہ ' کیا انہیں یہ قبول ہے کہ آپ وزیراعظم کو اسلام آباد بھیجیں اور 5 معزز جج ایک منٹ میں منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج دیں۔

سابق وزیراعظم اپنے خطاب کے دوران یہ سوال بھی کرتے رہے کہ کیا عوام کو عدالتی فیصلہ قبول ہے، کیا انہوں نے کوئی کرپشن کی جب کہ انہیں بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ وصول نہ کرنے پر نااہل قرار دیا گیا۔

This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.