تناؤ دور کرنے والی 7 غذائیں

یہاں ہم آپ کو ایسی 7 غذائیں بتارہے ہیں جو آپ کی روزانہ کی زندگی میں تناؤ کم کرنے میں مدد کریں گی۔

ہرے پتوں والی سبزیاں

تناؤ کی صورت میں آپ چیس برگر یا اس طرح کے کھانوں کی طرف راغب ہوسکتے ہیں جو جلد تیار تو ہوجائیں گی لیکن آپ کو سست بھی کردیں گی۔ دوپہر کے کھانے کے لیے ہرے پتوں سے بنے ہوئے کھانوں کا انتخاب کیجئے۔ اس سلسلے میں پالک کا استعمال کیا جاسکتا ہے جس میں فولیٹ موجود ہوتا ہے جو ڈوپامین نامی کیمیکل بناتا ہے جس سے آپ کے دماغ کو راحت اور خوشی ملتی ہے اور ڈوپامین آپ کو پرسکون بھی رکھتا ہے۔ 2013 میں یونیورسٹی آف اوٹاگو کے ایک مطالعے کے مطابق جن دنوں میں کالج کے طالب علموں نے پھل یا سبزیاں کھائیں وہ ان دنوں کے مقابلے میں زیادہ خوش اور پرجوش تھے جن دنوں میں انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

اوٹمیل (دلیہ)

اگر آپ کاربوہائڈریٹ سے بھرپور کھانوں کے شوقین ہیں تو امکانات ہیں کہ تناؤ کی صورت میں آپ کا ہاتھ ڈونٹ کی جانب بڑھے۔ اس خواہش کو مکمل طور پر ختم نہ کریں بلکہ اوٹمیل کھائیں۔ اس سے آپ کے خون میں شکر کی تعداد فوری طور پر نہیں بڑھے گی جو کہ عام طور پر تناؤ کی صورت حال کا شکار شخص جھیل رہا ہوتا ہے۔

دہی

2013 کی ایک ریسرچ میں 36 خواتین کے دماغ کی سرگرمیوں کی نگرانی کی گئی جس میں پایا گیا کہ جن خواتین نے دہی کھایا ان کے دماغ کے وہ حصے کم سرگرم رہے جو تناؤ پیدا کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں جس کے باعث انہوں نے ان لوگوں کے مقابلے میں کم تناؤ محسوس کیا جنہوں نے دہی نہیں کھایا تھا۔ یہ ریسرچ کم افراد پر کی گئی اس لیے اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاہم دہی کیلشیم اور پروٹین سے مالامال ہوتا ہے اس لیے اسے اپنی غذا کا مستقل حصہ بنانا گھاٹے کا سودا نہیں۔

سالمن مچھلی

جب آپ تناؤ کا شکار ہوتے ہیں تو اڈرینلن اور کورٹیسول جیسے ہارمونز کی تعداد بڑھ جاتی ہے تاہم سالمن مچھلی میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے ان ہارمونز کو قابو کیا جاسکتا ہے۔ اوریگان یونیورسٹی کے ایک مطالعے میں پایا گیا کہ جن افراد نے اومیگا تھری سپلیمنٹ کی گولیاں کھائیں انہوں نے پلاسیبو پلز کھانے والوں کے مقابلے میں 20 فیصد کم تناؤ محسوس ہوا۔

بلو بیری

تناؤ کی صورت حال کے دوران آپ کے جسم کے اندر اپنی ہی ایک جنگ جاری ہوتی ہے۔ بلو بیریزمیں موجود اینٹی اوکسیڈنٹس اور نیوٹرینٹس آپ کے دفاع میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اور آپ کے جسم کو تناؤ برداشت کرنے کے قابل بناسکتی ہیں۔ ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بلو بیری کھانے سے ایسے سیلز جسم میں پیدا ہوتے ہیں جو آپ کی قوت مدافعت کو بڑھاتے ہیں اور اس سے تناؤ کے خلاف آپ کے جسم کا دفاع بھی مضبوط ہوتا ہے۔

ڈارک چاکلیٹ

ریسرچ کے مطابق ڈارک چاکلیٹ سے لوگوں کے تناؤ میں نمایاں کمی محسوس کی گئی۔ چاکلیٹ میں ایسے اجزا بھی موجود ہوتے ہیں جو خون کی شریانوں کو آرام دینے میں مدد کرتے ہیں، بلڈ پریشر کم ہوتا ہے اور خون کی روانی بہتر ہوتی ہے۔ تناؤ کم کرنے کے لیے ایسی چاکلیٹ کا استعمال کریں جس میں 70 فیصد سے زائد کوکوا ہو۔

دودھ

فورٹیفائڈ دودھ ویٹامن ڈی کا بہترین ذخیرہ ہے جس میں خوشی کو بڑھانے والے اجزا موجود ہوتے ہیں۔ 50 سال طویل لندن کے ایک انسٹی ٹیوٹ کی ریسرچ میں پایا گیا کہ جن افراد مین ویٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے وہ جلدی گھبراہٹ اور ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔e2
This entry was posted in صحت. Bookmark the permalink.