جامشورو یونیورسٹی کے سائن بورڈز انگریزی اور سندھی میں تحریر کرنے کا حکم

سندھ یونیورسٹی جامشورو کی حدود کے اندر تمام سائن بورڈز انگریزی اور سندھی میں تحریر کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے جبکہ ٹائلز پر بھی قومی زبان کا استعمال ممنوع قرار دیدیا گیا ہے۔ اس حوالے سے یونیورسٹی رجسٹرار نے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ لیکن جامشورو یونیورسٹی کے وائس چانسلر فتح محمد برفت نے ایسا کوئی بھی نوٹی فیکیشن جاری ہونے کی تردید کر دی ہے۔

دوسری جانب ترجمان جامعہ سندھ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اردو ملک کی قومی زبان ہے، جس سے ہم سب دل سے پیار کرتے ہیں، اس کو سندھ یونیورسٹی میں نظر انداز کرنے کا تصور بھی ممکن نہیں، سندھ یونیورسٹی میں اردو کا اہم شعبہ قائم ہے، جہاں پی ایچ ڈی سطح تک تعلیم دی جاتی ہے، اس کے علاوہ 23 مارچ، 14 اگست، 6 ستمبرسمیت ملک کے اہم قومی دنوں پر ہونے والی تقریبات بھی زیادہ طور پر اردو زبان میں ہی منعقد کی جاتی ہیں۔

ترجمان نے کہا ہے کہ سندھ یونیورسٹی اور ان کے کیمپسز میں موجود عمارات اور سائن بورڈز پر اردو، سندھی اور انگریزی تینوں زبانیں لکھی جاتی ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا ہے کہ سندھ یونیورسٹی میں زبانوں کے بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہے، سب زبانوں کو ایک جیسی اہمیت اور حیثیت حاصل ہے اور مختلف زبانےں بولنے والے طلبہ بغیر کسی فرق کے اپنے دلچسپی والے شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.