جاوید اقبال بھی قمر زمان ثابت ہوئے تو بڑا رد عمل آئے گا، عمران خان

ڈیرہ اسماعیل خان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ چیرمین نیب کی تعیناتی میں ہماری کوئی مشاورت نہیں، اس میں بھی نوازشریف کو بچانے کی کوشش کی گئی، نیب کے پچھلے چیرمین نے زرداری اور اسحاق ڈار کو بچایا۔

عمران خان نے کہا کہ خورشید شاہ پر بھی کرپشن کے کیسز ہیں، حکومت اور اپوزیشن نے چیرمین نیب پر مک مکا کرلیا ہے لیکن قوم چیرمین نیب جاوید اقبال کی طرف دیکھ رہی ہے، قوم نیب میں احتساب کی توقع کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے وزیر کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں، جاوید اقبال نے احتساب کردیا تو قوم ان کی تعریف کرے گی اور اگر جاوید اقبال بھی قمر زمان ثابت ہوئے تو اس پر زبردست رد عمل آئے گا۔

چیرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اربوں روپے کی چوری کرنےوالوں کو وی آئی پی پروٹوکول مل رہا ہے اور چھوٹے آدمی جیلوں میں سڑرہے ہیں، ملک کا وزیراعظم ایک نااہل اور کرپٹ شخص کو اپنا وزیراعظم کہہ رہا ہے، میں دیکھ رہا ہوں اور قوم بھی دیکھ رہی ہے، انہوں نے 30 ہزار کروڑ کا حساب دینا ہے، اگر دیکھا کہ بڑے ڈاکوؤں کو بچایا جارہا ہے تو سڑکوں پر نکل کر پرامن احتجاج ہی ایک حق ہے۔

عمران خان نے کہا کہ زرداری  اور نواز شریف نے خود کو بچانے کے لیے فیصلہ کیا تھا کہ چیرمین نیب خود لائیں گے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے آئین بدل دیا ،آٹھویں ترمیم لے آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حکومت نے اتنا قرضہ لیا کہ ملک کی سالمیت خطرے میں ڈال دی، اس طرح کے لوگ اگر بیٹھے ہوئے تو کسی سازش کی ضرورت نہیں، آج چوری چھپانے کے لیے عدلیہ اور فوج کو برا بھلا کہہ رہے ہیں یہ سازش ہے۔

چیرمین پی ٹی آئی نے امریکی پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ ہندوستان کی زبان بول رہا ہے، ٹرمپ نے اپنی ناکامی کا سارا بوجھ پاکستان پر ڈال دیا، پاکستان کی خارجہ پالیسی فیل ہے، آخری 2 سال میں جب خارجہ پالیسی پر کام کرنا تھا تو وزیراعظم کو پاناما کی پڑی تھی اور وہ اپنا پیسہ بچا رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج معیشت کا برا حال ہے لیکن اسحاق ڈار عدالت کے چکر ماررہے ہیں، ان تمام چیزوں کا حل ملک میں نیا الیکشن ہے کیونکہ اس طرح ملک نہیں چل سکتا۔

اس سے قبل ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ جانور تو اتنا کھاتا ہے جس سے اس کا پیٹ بھر جائے لیکن انسان جب جانوربنتا ہے تو کھا کھا کربھی اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔

عمران خان نے کہا کہ میں ساری دنیا پھرچکا ہوں، پاکستان جیسا ملک دنیا میں کہیں نہیں، پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنے والا ملک تھا، جب برا وقت آئے تو سوچو کہ کیا غلطی کی، غلطی سدھارو پھر آگے بڑھو۔ چیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ 2018 میں تحریک انصاف پاکستان کے سارے صوبوں میں حکومت بنائے گی، ہم نے قانون کو سب کے لیے ایک بنانا ہے، کسی طاقتور کو پکڑا جائے تو یہ نہ کہے کہ مجھے کیوں نکالا۔ انہوں نے آصف زردای کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری سینما کے ٹکٹ بلیک کرتا تھا، آج زرداری کے پاس سندھ میں ایک لاکھ ایکڑ اراضی ہے، عزیر بلوچ نے کہا کہ اس نے شوگر ملوں پر قبضہ کرکے زرداری کو دیا، آج زرداری 19 شوگر ملوں کا مالک بنا بیٹھا ہے، نوازشریف اسی لیے کہتے ہیں کہ زرداری دندنا پھررہا ہے تو مجھے کیوں پکڑا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ بے نظیر کے بعد زرداری نے کاغذ دکھایا کہ میں اور بلاول پارٹی سربراہ ہیں، اگر پیپلزپارٹی میں میرٹ ہوتی تو اعتزاز احسن اور بلاول میں کیا مقابلہ تھا۔ چیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ زیادہ نہیں ملک کا 200 سے 300 ارب روپیہ باہر پڑا ہے، سپریم کورٹ نے نکالا تو کہتے ہیں مجھے کیوں نکالا، ان کے لندن میں بڑے بڑے گھر ہیں، صرف بتائیں پیسہ باہر کیسے گیا اور کتنا گیا، کہتے ہیں مجھے کیوں نکالا، میں بتا سکتا ہوں کیوں نکالا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے بڑے بڑے مجرم اسمبلیوں میں آتے ہیں اس سے زیادہ شرمناک بات کیا ہے، اسمبلی کی بورنگ تقرریں سن سن کر نیند آگئی، آنکھ کھلی تو لگا ڈاکوؤں میں آگیا ہوں، ہم بڑے ڈاکوؤں کو جیل میں ڈال کر دکھائیں گے، ہم نے طاقتور کو قانون کےنیچے لانا ہے اور ملک میں قانون کی بالادستی قائم کرنی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ہماری ساری پالیسیاں غربت کم کرنے کے لیے ہوں گی، آج تمام پالیسیاں امیروں کے لیے ہیں جس کی وجہ سے امیر امیر اور غریب غریب تر ہورہا ہے، 10 کروڑو لوگوں کو پانچ سال میں غربت سے نکالنا ہماری پالیسی ہے۔
This entry was posted in قومی, Uncategorized. Bookmark the permalink.