جج مصری صدر انور سعادت کآ قتل آور نواز شریف کی مماثلت کلک کریں

جج نے مصری صدر انور سادات کے قاتل سے پوچھا:
تو نے سادات کو کیوں قتل کیا؟
قاتل : کیونکہ وہ سیکولر تھا۔
جج : یہ سیکولر کیا ہوتا ہے؟
قاتل : مجھے نہیں پتہ۔

مشہور مصری ادیب نجیب محفوظ پر قاتلانہ حملہ کرنے والے
ملزم سے جج نے پوچھا:

تو نے نجیب کو کیوں چھرا گھونپا؟
مجرم : کیونکہ وہ ایک دہشت گرد ہے۔ اور اس نے دہشت گردی کو شہ دیتی کتاب ” رواية اولاد حارتنا” لکھی ہے۔
جج : کیا تو نے رواية اولاد حارتنا پڑھی ہے؟
مجرم : نہیں۔

جج نے مشہور کاتب فرج فودة کو مارنے والے
تین مجرموں میں سے ایک سے پوچھا:

تو نے فرج کو کیوں قتل کیا:
قاتل : کیونکہ وہ کافر تھا۔
جج : تجھے کیسے پتہ چلا کہ وہ کافر تھا؟
قاتل : اس کی کتابوں سے۔
جج : تجھے اس کی کونسی کتاب سے پتہ چلا کہ وہ کافر تھا۔
قاتل : میں اس کی کتابیں نہیں پڑھی لوگوں سے سنا۔
جج : تم اس کی کتابیں کیوں نہیں پڑھتے؟
قاتل : کیونکہ میں لکھنا پڑھنا نہیں جانتا۔

باکل اسی طرح آج دھرنے میں لوگوں سے پوچھا گیا تو ان کے جوابات بھی یہی تھے اس طرح جلوسوں اور ہڑتال میں شرکت کرنے والی اکثریت نہیں جانتی کہ وہ کیوں اور کس لئے شریک ہیں اس احتجاج میں۔۔۔
جب تک عوام انفرادی طور پر باشعور نہیں ہوگی
اسی طرح معاشرہ جہالت کی قیمت ادا کرتا رہے گا 😑