جسٹس نجفی کمیشن کی رپورٹ پبلک، سانحہ ماڈل ٹاؤن بد ترین واقعہ قرار

جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب قومی اور بین الاقوامی میڈیا ضربِ عضب کی کامیابیوں کا بتا رہا تھا، اس وقت منہاج القران میں پنجاب پولیس کی جانب سے ظلم ہو رہا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ انسان جھوٹ بول سکتا ہے، حالات نہیں، حالات بتاتے ہیں کہ پولیس والوں نے اس قتل عام میں بھرپور حصہ ڈالا۔ پولیس نے وہی کیا جس کے لیے اسے بھیجا گیا تھا۔ رانا ثناء اللہ ڈاکٹر طاہر القادری کو اپنے سیاسی مقاصد پورا کرنے کے کوئی موقع نہیں دینا چاہتے تھے۔ اس رپورٹ کو پڑھنے والے خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ذمہ داری کس پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق تمام ذمہ دار افراد ایک دوسرے کو بچانے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ یہ بات شیشے کی طرح صاف شفاف ہے کہ وزیر اعلیٰ کی طرف سے کارروائی روکنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ عدالت کے حکم پر عمل درآمد کیا جاتا تو وزیرِ قانون کو نگرانی میں طے پانے والے آپریشن میں خون خرابا روکا جا سکتا تھا۔ جبکہ تمام بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے کسی بھی وقت کارروائی روکنے کا حکم نہیں دیا۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.