جنرل ضیاءالحق نے یتیم بچیوں کا حسن سلوک اور موجودہ حکمرانوں کی بے حسی جاری یتیم بچیوں کا حسن سلوک اور موجودہ حکمرانوں کی بے حسی کو پڑھنے کے لئے کلک کرے بادبان ٹی وی پر ہ

2

(مظفر گڑھ کی حمیدہ کی شہزادیاں سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور جنرل ضیاالحق )

جنرل ضیاالحق کے پاس جب منظوری کے لیئے ملاقاتیوں کی فہرست آتی تو ایک نام پر نظر پڑتے ہی ان کے تیور بدل جاتے ان کے چہرے کا رنگ سرخ ہو جاتا تاہم ملٹری سیکرٹری سمیت قریبی ساتھیوں میں کسی کی بھی ہمت نہ پڑتی کہ جنرل ضیاالحق سے اس بابت کچھ دریافت کر لے
آخر کار یہ سکوت تب ٹوٹا جب جنرل صاحب کے ایک قریبی دوست نے اس بابت ان سے دریافت کیا یہ دوست جنرل ضیاالحق کے ہم جماعت بھی رہے تھے اور تعلق بھی خاصا بے تکلفانہ تھا
جنرل صاحب نے پہلے تو آہ بھری پھر قدرے غمگین لہجے میں مخاطب ہوئے کہ ملاقاتیوں کی فہرست میں جب میں سندھ سے تعلق رکھنے والے اس سیاستدان جو سندھ حکومت کے سب سے بڑے اور اہم عہدے پر فائز رہا ہے کو دیکھتا ہوں تو تو مجھے ایک بنت حوا کی کال یاد آجاتی ہے جب اس معصوم بچی نے کسی نہ کسی طرح ایوان صدر کے زاتی ٹیلی فون جو صدر مملکت جنرل ضیاالحق کے استعمال میں تھا پر کال کی صدر ضیاالحق کے مطابق ان کے فون اٹھانے پر دوسری طرف سے لرزتی ہوئی آواز آئی کہ جناب صدر میری کال منقطع نہ کیجئے گا اور قوم کی بیٹی کے لیئے صرف تین منٹ مخصوص کر دیجئے گا
صدر جنرل ضیاالحق کے تسلی دینے پر لرزتی ہوئی نسوانی آواز نے بتایا کہ کیسے سندھ سے تعلق رکھنے والے اس سیاستدان نے تعلیم یافتہ نوجوان بچی کو ملازمت کے بہانے اپنی سرکاری رہائش گاہ بلایا اور پھر جب بچی اپنے باپ سے بھی زیادہ عمر کے اس سیاستدان کی سرکاری رہائش کے زاتی بیڈ روم سے واپس آئی تو لڑکی کے ہاتھ ملازمت کا پروانہ تو نہیں تھا تاہم بکھرے ہوئے بالوں کے ساتھ دبی ہوئی سسکیاں اور آنسو ضرور تھے
اج مجھے مظفر گڑھ کے علاقے سناواں کی حمیدہ بیگم کی تین جوان بیٹیوں کی پولیس کے ہاتھوں حراست کی خبر سن کر جنرل ضیاالحق اور وہ بیٹی پھر سے یاد آگئی کیونکہ عوام کا خون چوسنے والے طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے ان سیاستدانوں کے لیئے کہ 80 کی دہائی کی اس معصوم اور 2019 کی ان بچیوں کے لیے طریقہ وادات نہیں بدلا
سناواں کی حمیدہ بیگم کی یہ یتیم بچیاں اوائل عمری سے سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کی بہن خدیجہ کھر کے زاتی ملازمین میں شامل تھیں
بیوہ ماں اب ان کی رخصتی کرکے اپنے فرائض سے سبکدوش ہونا چاہتی تھی مگر عوام کا رس چوسنے والے ان ظالموں کے لیئے یتیم بچیوں کی خواہشات جوتیوں کی نوک تلے تھیں بیوہ حمیدہ کی اپنی یتیم بیٹیوں کو لاہور سے واپس لا کر ان کی رخصتی کی خواہش اور مالکان کی آسائشوں کے درمیان کشمکش کوئی دو سے تین سال تک جاری رہی آخر کار کسی نہ کسی طرح حمیدہ کی تینوں شہزادیاں سناواں آ گئیں مگر حمیدہ کے امتحانات ابھی ختم نہیں ہوئے تھے
گزشتہ سے پیوستہ شب تھانہ سناواں کے اہلکار حمیدہ کے گھر میں داخل ہوئے شاہدہ سمیت دیگر دونوں بہنوں کو اٹھایا اور تھانے منتقل کر دیا سناواں سے یہ بچیاں اب لاہور کے تھانے منتقل ہو چکیں ہیں
صاحب اولاد لوگ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تین جوان بیٹیوں کا غیر محرم افراد کی تحویل میں ہونا کسی شخص باالخصوص اس بیوہ کے لیئے کہ جس کی کل کائنات انہیں شہزادیوں سے شروع ہو کر انہیں پر ختم ہوتی ہے کے لیئے کتنے کرب سے بھرپور ہے
اسی کی دہائی میں جنرل ضیاالحق نے تو ایک بیٹی کے کرب کو محسوس کر لیا تھا مگر کیا آج کے تبدیلی سرکار سناواں مظفر گڑھ کی حمیدہ کے دکھ کو سمجھ پائیں گے یہ بھی ان شہزادیوں پر ظلم ڈھانے والے جاگیرداروں سے کیا منہ موڑ لیں گے
کیا یہ بچیاں بازیاب ہو سکیں گی ابھی بہت کچھ دیکھنا باقی ہے اور بہت کچھ لکھنا باقی ہے مگر تبدیلی سرکار کا سب سے بڑا امتحان شروع ہو۔ کا ہے اگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا تو پھر ہم یوں کہنے میں حق بجانب ہونگے کہ ایسی بے حس جمہوریت سے آ مریت بہتر ہے جہاں کم ازکم قوم کی مظلوم دختران کے درد کو گ