جو نشستیں عمران خان نے چھوڑیں وہ ہم نے جیتیں اور ثابت ہوگیا کہ انتخابات دھاندلی زدہ تھا،پی ٹی آئی اور نیب کا چولی دامن کا ساتھ ہے، 13 مئی کو ہمارے خلاف دھاندلی کے پرچے کاٹے گئے، الیکشن کے دوران لیگی ارکان کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیا گیا۔ شیخ رشید نے کہا تھا شہباز شریف جیل کی ہوا کھائےگا ، نیب کے افسران گرفتار افسران کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کے لیئے دباؤ ڈال رھے ھے … عمران خان جھوٹ بول رہا ہے… جیلوں سے نحی ڈرتے اور نہ ڈر نگے… شھباز شریف

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کیس میں گرفتار قائدِ حزب اختلاف شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے تھے جس کا مطالبہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سامنے آیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ شاید تاریخ کا جبر ہے یا تاریخ رقم کی جارہی ہے کہ پہلا موقع ہے کہ اپوزیششن لیڈر کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کیا گیا، میں یہاں مقدمے کے میرٹ یا فیکٹس پر بات نہیں کروں گا بلکہ تحریک انصاف اور نیب کے ناپاک الائنس پر بات کرنا چاہتا ہوں۔

جو نشستیں عمران خان نے چھوڑیں وہ ہم نے جیتیں اور ثابت ہوگیا کہ انتخابات دھاندلی زدہ تھا، شہباز شریف

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ چیئرمین نیب نے میرے گرفتاری کے احکامات 6 جولائی کو تیار کیے اور کس وجہ سے وہ مؤخر ہوئے اس پر فیصلہ تاریخ کرے گی اور جب ضمنی انتخابات کا وقت آیا تو وہ آرڈر جاری ہوئے تاکہ مقاصد حاصل کیے جائیں۔

شہباز شریف نے کہا ‘وہ نشستیں جو عام انتخابات میں پی ٹی آئی کی جھولی میں گریں وہی سیٹیں صرف دو ماہ کے عرصے میں کچھ ن لیگ نے جیتیں، کچھ پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم ایم اے نے جیتیں۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ جو نشستیں عمران خان نے چھوڑیں وہ بھی ہم نے جیتیں اور ثابت ہوگیا کہ انتخابات دھاندلی زدہ تھا، کبھی ایسا ہوا کہ دو ماہ میں اتنی بڑی تبدیلی آجائے۔

شہباز شریف کی لاہور سے اسلام آباد منتقلی

نیب کی دو رکنی ٹیم نے پروڈکشن آرڈر پر عملدرآمد کرتے ہوئے شہباز شریف کو لاہور سے بذریعہ پی آئی اے کی پرواز پی کے 652 اسلام آباد پہنچایا۔

نیب نے شہباز شریف کو قومی اسمبلی کے ڈپٹی سارجنٹ آف آرمز کے حوالے کیا جب کہ ڈپٹی سارجنٹ آف آرمز نے حوالگی کے لئے دستاویزات پر دستخط کیے۔

شہباز شریف نے اپنے چیمبر میں پہنچ کر لباس تبدیل کیا اور پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ سے ملاقات بھی کی۔

ذرائع کے مطابق اگر اجلاس ایک دن سے زیادہ مدت کا ہوا تو شہباز شریف کو نیب تھانے کے حوالات میں رکھا جائے گا۔

اپوزیشن جماعتوں کی ریکوزیشن پر طلب کیے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے احتجاج کا امکان ہے۔

نیب لاہور نے 5 اکتوبر کو سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا، تاہم اُن کی پیشی پر انہیں آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں کرپشن کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔