ذیابطیس: ایک خاموش قاتل

 
چودہ نومبر ذیابطیس کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2014ء میں دنیا بھر کے ذیابطیس کے مریضوں کی تعداد بیاسی کروڑ بیس لاکھ تھی۔ پاکستان میں بھی یہ مرض پھیلتا جا رہا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ذیابطیس کے مریضوں کی تعداد اکہتر لاکھ ہے اور یہ تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ ذیابطیس کیا ہے؟ ہمارے جسم میں شوگر کو کنٹرول کرنے والا ایک خاص عضو پایا جاتا ہے جس کا نام لبلبہ ہے۔ اس عضو کا کام انسولین بنانا ہوتا ہے۔ اگر یہ عضو انسولین بنانا بند یا اسکی مقدار کم کردے تو انسان ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ذیابیطس کی دو اقسام ہوتی ہیں۔ ذیابطیس ٹائپ 1 اور ذیابطیس ٹائپ 2۔ بچپن یا جوانی میں ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے والے افراد ذیابطیس ٹائپ 1 میں شمار ہوتے ہیں جب کہ چالیس سال کے بعد ہونے والے ذیابطیس ٹائپ 2 کے مریض ہوتے ہیں۔ ذیابطیس ٹائپ 1 کے مریضوں کا علاج صرف انسولین کے ٹیکوں سے ممکن ہوتا ہے اور ذیابطیس ٹائپ 2 کے مریضوں کا علاج ادویات سے کیا جا سکتا ہے۔ کچھ افراد کو انسولین کے ٹیکوں کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.