رئیس گوٹھ مقابلہ: انصار الشریعہ کا سرغنہ، خواجہ اظہار پر حملہ کرنیوالا بھی ہلاک

شہر قائد کے علاقے رئیس گوٹھ میں گزشتہ شب رینجرز اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی میں 8 دہشت گرد مارے گئے تھے۔ اس حوالے سے رینجرز ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان سندھ رینجرز کرنل فیصل نے بتایا کہ گزشتہ رات انصار الشریعہ کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی گئی، کارروائی کے دوران خواجہ اظہار پر حملہ کرنیوالا ملزم ہلاک ہو گیا، انصار الشریعہ کے دہشتگرد عبد الکیریم سروش کے گھر چھاپہ مارا گیا تھا جس کے دوران وہاں سے موبائل، ویڈیو ریکارڈنگ اور ممنوعہ مٹیرئیل برآمد ہوا۔ کرنل فیصل نے بتایا کہ انصار الشریعہ کی ٹارگٹ کلنگ ٹیم میں 6 سے 8 دہشتگرد شامل تھے، انصار الشریعہ نے القاعدہ سے نظریاتی طور پر منسلک ہونے کا اعلان بھی کیا تھا، اس تنظیم نے پہلی بار 21 مئی 2017ء کو پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا پھر 23 جون کو 4 پولیس اہلکاروں کو افطار کے دوران شہید کیا، 28 اگست 2017ء کو 2 ایف بی آر گارڈز کو شہید کیا گیا، انصار الشریعہ کی آخری کارروائی 2 ستمبر 2017ء کو سامنے آئی۔ ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ رات ہلاک ہونے والے 8 دہشتگردوں کی شناخت ہو چکی ہے، انصار الشریعہ کا سرغنہ ڈاکٹر عبد اللہ ہاشمی ہلاک ہو چکا ہے، ہلاک دہشتگرد ارسلان بیگ افغانستان سے القاعدہ سے تربیت یافتہ تھا، تنظیم کے 4 اہم ارکان ابھی مفرور ہیں، مفرور دہشتگردوں کے جرائم کی فہرست بہت لمبی ہے، ان کی جانب سے کسی تعلیمی ادارے میں دہشتگردی کے کوئی شواہد نہیں ملے، دہشت گردوں نے حساس مقامات کی بھی ریکی کر رکھی تھی لیکن اب انصار الشریعہ کی کراچی میں صلاحیت ختم ہو چکی ہے، تنظیم کے مفرور دہشتگردوں کو بھی جلد قانون کی گرفت میں لائیں گے۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.