روہنگیا مسلمانوں پر مظالم، مالدیپ نے میانمار سے تجارتی تعلقات منقطع کرلئے

مالدیپ کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مالدیپ کو روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، لوگوں کی ہلاکت اور ہجرت پر شدید تحفظات ہیں۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ حکومت مالدیپ نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک میانمار کی حکومت روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی روک تھام نہیں روک لیتی اس وقت تک تمام تجارتی تعلقات منقطع رہیں گے۔ مالدیپ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم اور ان کے حق تلفی کا نوٹس لے۔

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف مختلف ممالک کی جانب سے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی شدید مذمت کی گئی اور میانمار حکومت سے ظلم و ستم روکنے کا مطالبہ کیا گیا جب کہ انڈونیشیا نے میانمار کے سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج کیا۔

ترکی اور بنگلادیش نے بھی روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے مطابق 25 اگست کے بعد سے میانمار سے بنگلہ دیش ہجرت کرنے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 23 ہزار 600 ہے۔

اس کے علاوہ گزشتہ سال اکتوبر میں سیکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے بعد بھی 87 ہزار افراد بنگلہ دیش منتقل ہوئے تھے۔
This entry was posted in بین الاقوامی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.