زکام کا وائرس سردیوں میں تیزی سے کیوں پھیلتا ہے؟

سردیوں میں نزلہ اور زکام کی شکایت عام ہے۔ جیسے ہی درجہ حرارت گرنا شروع ہوتا ہے، اس مرض میں مبتلا افراد کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عام افراد کے ساتھ ساتھ طبی ماہرین اور سائنسدان بھی ابھی تک یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ سرد موسم اور نزلہ زکام کا آپس میں کیا تعلق ہے اور اس کے وائرس اس موسم میں کیوں تیزی سے پھیلتے ہیں؟ ایک اندازے کے مطابق ہر سال موسمی فلو سے دنیا بھر میں تقریباً 5 ملین افراد متاثر ہوتے ہیں اور ان میں سے ڈھائی لاکھ افراد اس مرض کے ہاتھوں دم توڑ دیتے ہیں۔ اگرچہ شاید ہی دنیا کا کوئی ایسا شخص ہو جسے نزلہ زکام کا مرض نہ لاحق ہوا ہو، تاہم اس کے باوجود سائنسدان اس کے پھیلنے کی وجوہات جاننے سے تاحال قاصر ہیں۔ بلکہ انھیں حیرت ہے کہ یہ مرض صرف سردیوں میں ہی کیوں پھیلتا ہے؟ طبی ماہرین کے مطابق سرما میں چونکہ ہم موسمی اثرات سے بچنے کیلئے اپنا زیادہ تر وقت گھروں میں گزارتے ہیں، جو زکام کے وائرس کو پھیلنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں ہمارے جسم کا دفاعی نظام بہت حد تک کمزور ہو جاتا ہے، اس لیے فلو کا وائرس تیزی سے پھیلتا ہے۔ تاہم اس کے باجود اس مرض کے پھیلنے کی مکمل وجوہات سے ابھی تک پردہ نہیں اٹھایا جا سکا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فلو کا وائرس خشک ہوا میں زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ جب اس مرض میں مبتلا افراد کھانستے یا چھینکتے ہیں تو اس سے جراثیم دوسروں کو منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ جبکہ نمی والے موسم میں فلو کا وائرس ہوا کے ذریعے فضا میں منتقل نہیں ہوتا، اس لیے اس موسم میں فلو کے مرض کی شدت دیکھنے میں نہیں آتی۔ لیکن موسم سرما میں اس کے جراثیم کئی کئی دن تک ہوا میں تیرتے رہتے ہیں۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ پانی فلو کے وائرس سے بچنے کا واحد ذریعہ ہے۔ اس لیے ڈاکٹرز بھی اپنے مریضوں کو حفظانِ صحت کیلئے ہاتھ دھو کر رکھنے کی تاکید کرتے ہیں۔
This entry was posted in Science and Technology, اہم خبریں. Bookmark the permalink.