زیادہ گوشت کھانے سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

یہ تحقیق سنگاپور کی آبادی میں کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر اس کی جگہ مچھلی اور دیگر سمندری غذائیں کھائی جائیں تو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا اور کئی طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اس سے قبل ماہرین کہہ چکے ہیں کہ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال صحت کے لیے ازحد مفید ہوتا ہے اور ذیابیطس سمیت کئی امراض کو روکنے میں مددگار ہوتا ہے۔
سنگاپور میں واقع ڈیوک این یو ایس میڈیکل اسکول کے پروفیسر وون پوائے کوہ اور ان کے ساتھیوں نے لال گوشت اور مچھلی کھانے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے درمیان تعلق پر تحقیق کا فیصلہ کیا۔ اس مطالعے میں گوشت میں موجود فولاد پر بطورِ خاص غور کیا گیا۔ اس کے لیے ماہرین نے سنگاپور کی آبادی کے 63 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لیا جن کی عمریں 45 سے 74 برس کے درمیان تھیں۔ ان افراد کا پانچ سال یعنی 1993 سے 1998 تک جائزہ لیا گیا۔ بعد ازاں 1999 اور 2004 میں اور پھر 2006 سے 2010 تک ان کے انٹرویو لیے گئے۔
ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ سرخ گوشت اور مرغی کھانے والوں میں ذیابیطس کا خطرہ بلند تھا جبکہ مچھلی اور سمندری غذا کھانے والے افراد میں اس مرض کا حملہ بہت کم کم ہوا۔ ماہرین اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سرخ گوشت اگر معمول سے زیادہ کھایا جائے تو ذیابیطس کا خطرہ 23 فیصد اور اگر پولٹری مصنوعات مثلاً مرغی وغیرہ کھائی جائے تو اس سے ذیابیطس کا خطرہ 15 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اگر اس کے بجائے مچھلی کھائی جائے تو یہ خطرہ معکوس یعنی پلٹ کر ختم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ سرخ گوشت اور پولٹری میں موجود فولاد یا ہیم (آئرن) اس کیفیت کو بڑھاتا ہے جو آگے چل کر ٹائپ ٹو ذیابیطس کی وجہ بنتی ہے۔
This entry was posted in صحت, اہم خبریں. Bookmark the permalink.