سائنسدانوں نے 2018 میں ہولناک زلزلوں کی پیش گوئی کردی

دو امریکی ماہرین نے کہا ہے کہ جب جب زمین کی گردشی حرکت مدھم پڑتی ہے، اس کے اگلے چند برس تک کرہِ ارض پر ہولناک زلزلے رونما ہوتے ہیں اور اگلے سال زیادہ زلزلے رونما ہوسکتے ہیں جس کی ایک مثال ایران و عراق میں رونما ہونے والا حالیہ زلزلہ بھی ہے۔ (فوٹو: فائل) سمندری طوفان ہو یا سیلاب، ان خطرات کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے لیکن سب سے تباہ کن آفات میں سے ایک یعنی زلزلے کی پیش گوئی کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ البتہ ماہرین اس مقصد کےلیے کسی علاقے کا ماضی دیکھتے ہیں اور زلزلوں کی تاریخ ، رخنوں (فالٹس) کی حرکات اور دیگر پہلوؤں پر تحقیق کے بعد سال کی پیش گوئی کرسکتے ہیں لیکن وہ بھی کئی عشروں پر محیط ہوسکتی ہے جبکہ اس میں غلطی کا امکان بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔
تاہم اب امریکی ماہرین کی ایک ٹیم نے کہا ہے کہ شاید اگلے سال معمول سے زائد زلزلے رونما ہوسکتے ہیں اور اس کی وجہ شاید یہ ہوسکتی ہے کہ زمین کی گردشی حرکت میں معمولی کمی ہوئی ہے۔ یونیورسٹی آف مونٹانا کی ریبیکا بینڈک اور یونیورسٹی آف کولوراڈو کے راجر بلہم نے ایک تحقیقی مقالہ لکھا ہے جس کی تفصیلات جیالوجیکل سوسائٹی آف امریکا کی سالانہ کانفرنس میں پیش کی گئی ہیں۔ اس ٹیم نے 1900 سے اب تک دنیا بھر میں رونما ہونے والے زیادہ شدید (ریکٹر اسکیل پر 7 یا اس سے زائد شدت کے) زلزلوں کا چارٹ بنایا ہے اور کہا ہے کہ اوسطاً ایک سال میں ایسے زلزلے زیادہ سے زیادہ 15 رونما ہوئے ہیں اور یہ سلسلہ گزشتہ 117 سال سے ہموار تھا۔ اس کے بعد زلزلوں کی یہ تعداد 25 سے 30 نوٹ کی گئی ہے جو بہت زیادہ ہے۔
تاہم دوسری جانب ماہرین نے اس تحقیق پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں زمین کے اندر پگھلے ہوئے مادے اتنے طاقتور ہوجائیں کہ وہ زمین پر زلزلے لاسکیں۔ علاوہ ازیں اب تک مائع فولاد اور اندرونی قلب کو اچھی طرح سمجھا بھی نہیں گیا ہے۔
This entry was posted in Science and Technology, اہم خبریں. Bookmark the permalink.