سائنسدان سٹیفن ہاکنگ طبیعات میں انقلاب کا بانی

    سٹیفن ہاکنگ کی پیدائش 8 جنوری 1942ء کو برطانیہ کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع آکسفورڈ شہر میں ہوئی۔ اس کا بچپن اسی علاقے میں گزرا، والد ایک ڈاکٹر تھے اور وہ اپنے والد کی شخصیت سے بہت متاثر تھا، ان کو کام کرتے دیکھتا تو اس کے دل میں بھی ان کے جیسا بننے کی خواہش زور پکڑ لیتی۔ اس نے ابتدائی زندگی میں ہی کامیاب سائنسدان بننے کا ارادہ کر لیا تھا۔ اسی جذبے کے تحت اس نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبہ طبیعات میں داخلہ لیا۔ 1962ء میں وہاں سے طبیعات کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ پی ایچ ڈی کے لئے کیمبرج چلا گیا۔ سٹیفن ہاکنگ رائل سوسائٹی آف آرٹ، امریکن فلوسوفیکل سوسائٹی، قومی اکادمی برائے سائنس، رائل سوسائٹی، امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون کا رکن بھی رہا۔ اس نے جیر وایلڈ نامی خاتون سے شادی کی جو 1995ء میں جہان فانی سے رخصت ہو گئی۔ سٹیفن ہاکنگ کے بچوں کے نام لوسی ہاکنگ، رابرٹ ہاکنگ اور ٹم ہاکنگ ہیں۔ اس کی سائنسی خدمات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس کو کاپلی میڈل، تمغا البرٹ، وولف انعام برائے طبیعیات، فرینکلن میڈل، تمغا البرٹ آئن سٹائن اور ہیگس میڈل جیسے اعزازت دیئے گئے۔ زمانہ طالبعلمی میں ہی سٹیفن ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہو گیا جس میں جسم کے پٹھے کمزور ہونے کے بعد آخر کار ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹروں نے اسے بتایا کہ اس بیماری کے ساتھ وہ چند سال ہی زندہ رہ پائے گا۔ ڈاکٹروں کی اس بات نے سٹیفن کے اندر انتھک محنت کا ایسا جذبہ پیدا کیا جس نے تادم آخر اس کا دھیان اپنے کام سے ہٹنے نہیں دیا۔ سٹیفن صرف اپنی وہیل چیئر پر بیٹھ کر ہی گھوم پھر سکتا تھا۔ ایک خاص الیکٹرونک زبان میں ہی کمپیوٹر استعمال کر سکتا تھا اور اپنی بات سمجھا سکتا تھا۔ 1965ء میں اس نے کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1979ء میں اسے اسی یونیورسٹی میں ریاضی کا پروفیسر مقرر کر دیا گیا۔ بعد میں وہ شعبہ علم ریاضی کا سربراہ بن گیا، یہ وہ ہی عہدہ تھا جس پر کبھی آئزیک نیوٹن فائز تھا۔ اس نے اپنی ساری زندگی” کاسمولوجی “ کا مطالعہ کرنے میں صرف کی۔ یہ سائنس کی وہ شاخ ہے جس سے ہمیں کائنات کے ارتقا اور موجودگی کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کی زیادہ دلچسپی ”بلیک ہولز“ میں تھی۔ بلیک ہولز کائنات کا ایک ایسا حصہ ہیں کہ جس میں چیزوں کو جذب کرنے کی طاقت بہت زیادہ ہے۔ اگر کوئی چیز اس میں چلی جائے تو وہ کبھی واپس نہیں آتی۔ سٹیفن ہاکنگ کے سائنسی خیالات سے بہت سے لوگوں کو اختلافات بھی تھے۔ ان اختلافات نے اس وقت زیادہ اہمیت اختیار کی جب سٹیفن نے اپنی کتاب میں کائنات اور خدا کے وجود کے متعلق کچھ باتیں لکھیں۔ اپنی کتابThe Grand Design میں سٹیفن ہاکنگ نے دعویٰ کیا کہ تخلیق کائنات کے لیے کسی کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ امریکی ماہر طبعیات لیونارڈ ملاڈینو کے ساتھ مل کر لکھی جانے والی یہ کتاب جریدے ’ٹائمز` میں قسط وار شائع ہوتی رہی۔
This entry was posted in Science and Technology, اہم خبریں. Bookmark the permalink.