سابق وزیر اعظم نواز شریف کا قافلہ شاہدرہ پہنچ گیا

لاہور: فضاؤں میں نغموں کی گونج عروج پر ہے۔ سبز پارٹی پرچموں کی بہار چھا گئی ہے۔ پُرجوش کارکن کا رقص اور نعرے بازی اپنا رنگ جما رہی ہے۔ نواز شریف کا قافلہ شاہدرہ موڑ کی جانب گامزن نواز شریف کا قافلہ رچنا ٹاؤن سے شاہدرہ موڑ کی جانب رواں دواں ہے۔ نواز شریف شاہدرہ موڑ پر جلسے سے خطاب کریں گے جہاں جلسہ گاہ میں کارکنوں کی بڑی تعداد ان کے استقبال کیلئے موجود ہے۔ حمزہ شہباز داتا دربار پہنچ گئے حمزہ شہباز نواز شریف کے استقبال کیلئے داتا دربار لاہور پہنچ گئے ہیں۔ دوسری جانب نواز شریف کی ریلی کی ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی وجوہات کے باعث داتا دربار کو زائرین کیلئے بند کر دیا گیا اور اردگرد کی دکانوں، ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر سرچ آپریشن کیا گیا۔ ادھر ڈی آئی جی حیدر اشرف نے ریلی کے روٹ پر سکیورٹی امور کی نگرانی کی۔ نواز شریف کا پنجاب فلور ملز میں مختصر قیام نواز شریف کچھ دیر کیلئے رچنا ٹاؤن میں واقع پنجاب فلور ملز میں ٹھہرے جہاں انہوں نے کھانا کھایا اور فریش ہوئے۔ فلور ملز کے باہر ہزاروں کارکن ان کے منتظر رہے۔ نواز شریف امامیہ کالونی پہنچے اس سے قبل نواز شریف کا قافلہ جو بدھ کے روز اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس سے روانہ ہوا تھا اسے لاہور کے بیرونی دروازے شاہدرہ کی امامیہ کالونی تک پہنچنے میں 77 گھنٹے اور 58 منٹ کا عرصہ لگا۔ امامیہ کالونی شاہدرہ پہنچنے پر مسلم لیگ نون کی مقامی قیادت کی جانب سے نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کا استقبال پھولوں کی پتیوں سے کیا گیا۔ کارکنوں کی جانب سے "دیکھو دیکھو کون آیا، شیر آیا شیر آیا" کے فلک شگاف نعرے بھی لگائے گئے۔ اس سے قبل نواز شریف نے کالا شاہ کاکو اور فیروز والا میں رکنے اور خطاب کرنے سے گریز کیا۔ تاہم وہ شاہدرہ اور داتا دربار چوک میں خطاب کریں گے جہاں سٹیج سجا دیئے گئے ہیں۔ دیگر لیگی رہنماء نواز شریف سے پہلے ہی شاہدرہ موڑ پہنچ گئے اور خوب گرجے برسے۔
   ماروی میمن شاہدرہ میں نواز شریف کے قافلے میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والی ماروی میمن نے سب سے پہلے پہنچ کر سٹیج سنبھالا اور کارکنوں کا لہو گرمایا، بولیں ہمارے ووٹر کی توہین ہوئی، کیا بدلہ لیں گے؟ عوام کے ووٹوں کی توہین ہوئی، کیا نواز شریف کا ساتھ دیں گے؟ انہوں نے اعلان کیا کہ قائد جیسا کہے گا، ویسا ہی ہو گا۔ ماروی میمن نے عوام سے نواز شریف کے حق میں بھرپور نعرے بھی لگوائے۔
امیر مقام شاہدرہ میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر امیر مقام بولے، اپنے قائد کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں، قائد جیسا کہے گا، ویسا ہی ہو گا، چار روز میں عوام نے ثابت کر دیا کہ نواز شریف ہی حقیقی لیڈر ہیں، نواز شریف کو کاغذوں سے نکالا جا سکتا ہے، دلوں سے نہیں۔
اس سے قبل آج صبح نواز شریف کا قافلہ خرم دستگیر کے بہنوئی کے گھر گوجرنوالہ سے روانہ ہوا تو کارکنوں نے نواز شریف کی گاڑی کو گھیر لیا اور دیوانہ وار نعرے لگائے۔ مداحوں نے نواز شریف کی گاڑی پر دل کھول کر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔
کچھ پُرجوش کارکن گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگتے رہے اور کچھ منچلے کارکن ناچ ناچ کر نہال ہوتے رہے۔ راستے میں سڑک کے دونوں اطراف لوگوں کی بڑی تعداد نواز شریف کو دیکھنے کے لئے موجود رہی۔
جھومتے، جھامتے، گاتے، بجاتے، نعرے لگاتے ہر کارکن کا اپنا اپنا انداز تھا۔ پرجوش کارکنوں نے والہانہ انداز میں رقص کے ساتھ سماں باندھے رکھا۔ ایمن آباد سے کامونکی تک منٹوں کا سفر گھنٹوں میں کٹا۔ گاڑیوں اور گھروں کی چھتوں پر موجود کارکن خطاب سننے اور بھرپور استقبال کیلئے بے تاب رہے۔
سیالکوٹ سے پہنچنے والے خواجہ آصف نے بھی خوب نعرے لگائے۔ مرید کے پہنچتے ہی نواز شریف گاڑی سے نکلے اور خطاب کے لئے سٹیج پر چلے گئے۔ انہوں نے کارکنوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔ نواز شریف کا خطاب ہمیں یہ بے عزتی منظور نہیں، مرید کے والوں کا جذبہ انقلاب کا پیش خیمہ ہے: نواز شریف   کارکنوں نے فلک شگاف نعرے لگائے۔ مختصر خطاب کے بعد نواز شریف کا مشن جی ٹی روڈ نعروں کی گونج میں اپنی اختتامی منزل لاہور کی جانب چل پڑا۔

 
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.