سانحہ قصور چیلنج اور امتحان، سزا کے بغیر درندگی کا رجحان کم نہ ہو گا

قصور میں سات سال کی بچی کے ساتھ درندگی ایک واقعہ نہیں، سانحہ ہے۔ قوم سکتے میں ہے۔ زینب خود تو دنیا سے چلی گئی لیکن ایک بہت بڑا سوال ہمارے معاشرے، ہمارے سسٹم، امن و امان کے ذمہ داروں، حکومت وقت اور خود عدالتوں کے آگے کھڑا چھوڑ گئی کہ بتائیں میرا قصور کیا تھا؟ مجھے کس جرم کی پاداش میں ظلم و تشدد اور درندگی کی بھینٹ چڑھایا گیا؟ کوئی ہے میرا انتقام لینے والا؟ زینب سے زیادتی اور پھر اس کی موت کی ایف آئی آر تو درج ہو گئی لیکن معاشرہ میں پائی جانے والی نااتفاقیوں، ظلم و تشدد، درندگی پر ہماری حکومتیں ہمارا نظام عدل خود کو جوابدہ کیوں نہیں سمجھتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک نہیں کئی زینب اس طرح کے ظلم و بربریت کی بھینٹ چڑھتی رہی ہیں۔ چیخ و پکار اور روایتی اقدامات کے ساتھ معاملات گول ہو تے رہے ہیں۔ والدین کو بھی صبر کا کہا جاتا رہا لیکن انصاف کا سسٹم ہر آنے والے دن کے اندر کمزور سے کمزور ہوتا گیا اور جن معاشروں کے اندر انصاف نہیں ہوتا وہاں انارکی جنم لیتی ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ قصور میں ہی بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پر مبنی ویڈیوز سکینڈل سامنے آیا، پہلے تو سنی ان سنی ہوتی رہی پھر حکومت حرکت میں آئی جیسا میڈیا کی جانب سے معاملہ اٹھائے جانے پر زنیب کے کیس میں ہو رہا ہے اور حکومتی اقدامات کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2015ء کے بعد 2017ء میں اس طرح کے واقعات میں 12.5 فیصد اضافہ ہوا۔ 2016ء میں یہ اضافہ 10 فیصد ہوا۔ پنجاب میں 2017ء کے دوران 2700 سے زائد زیادتی کے کیس رپورٹ ہوئے۔ پنجاب میں 2016ء میں 2676 زیادتی کے واقعات سامنے آئے۔ ہر سال جنسی زیادتیوں میں دو سے تین فیصد اضافہ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اس رجحان کے پیچھے کچھ نہ کچھ تو ہے جس کے باعث یہ بڑھا ہے۔ کہاں ہے حکومت، انتظامی مشینری، معاشرہ اور والدین جس نے ان پر خاموشی اختیار کئے رکھی۔ پنجاب میں 27 ہزار 262 اغوا زیادتی کے مقدمات رجسٹرڈ ہوئے۔ پنجاب میں دو برسوں کے دوران 379 خواتین کے ساتھ گینگ ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے لیکن کیا ان کے ذمہ دار پکڑے گئے۔ کیا ان کے خلاف مقدمات کی تفتیش ہوئی؟ کیا مقدمات عدالتوں میں پیش ہوئے؟ کیا مجرموں کو سزا ملی؟ اگر مجرموں کو سزا ملی تو یہ رجحان عام نہ ہوتا۔ ہماری تاریخ یہی بتاتی ہے کہ یہاں مجرموں کو ظالموں اور لٹیروں کو سزائیں نہیں ملتیں بلکہ ان کو تحفظ ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں جرائم پیشہ جرائم کرتے ہوئے خوف نہیں کھاتے۔ اب زینب سے ہونے والی درندگی کے عمل نے ایک مرتبہ پھر ہمیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لوگوں کے چہروں پر سوال نظر آ رہا ہے کہ قوم کی بیٹیوں کی عزتیں پامال کرنے والے کیونکر بچ جاتے ہیں کیا زینب کا قاتل پکڑا جائے گا۔ یہ ہمارے عدالتی سسٹم کے آگے بہت بڑا سوال ہے جب تک جنسی جرائم میں ملوث افراد پھانسی پر لٹکتے نظر نہیں آئیں گے۔ اس دھرتی کی زینب اسی طرح درندگی کا نشانہ بنتی رہے گی۔ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف جو ظلم جبر اور ناانصافی کے خلاف بڑے جذباتی نظر آتے ہیں اور دن رات انصاف کا رونا روتے ہیں انہیں بھی خود کو جوابدہ بناتے ہوئے اس سسٹم کا رونا رونے کے بجائے اب کچھ کرنا ہو گا وہ جس خونیں انقلاب کی بات کرتے ہیں وہ خونیں انقلاب اس طرح کے ظلم جبر اور درندگی کے ٹارگٹ ہوئے لوگ ہی لاتے ہیں اور خونیں انقلاب اس وقت آتا ہے۔ جب معاشرے قائم نہیں رہتے اور سسٹم ہوا میں اڑ چکا ہو، جو سسٹم ڈلیور نہ کر پائے اسے تبدیل کر دینا چاہیے۔ جو حکومتیں ذمہ داری کے احساس سے عاری ہوں، ان کے رہنے کا بھی کوئی جواز نہیں، لہذا زینب کے ساتھ درندگی کا واقعہ حساس طبیعت شہباز شریف کیلئے چیلنج ہے اور امتحان بھی اور مقصد صرف زینب کے قاتل کو اس کے انجام پر پہنچانا نہیں بلکہ ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جس میں زینب سکول بھی جائیں اور قرآن پاک پڑھنے کیلئے بھی اور ان پر بری نظر ڈالنے والوں کو اس امر کا خوف ہو کہ قوم کی بچیوں پر بری نظر ڈالنے کا انجام عبرتناک ہو گا تبھی یہ معاشرہ رہنے کے قابل ہو گا ورنہ درست کہا ہے کسی نے۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.