ستر سال کا بابا ریٹائر مینٹ پر کیا سوچ رکھتا ہے ای پی ای نیوز ایجنسی رپورٹ کے مطابق جبکہ قبر بھی قریب ہو

پیسا پیسا پیسا اور زندگی ختم…..
پچپن سے لے کر قبر تک انسان پیسے کے پیچھے بھگتا ہے بھاگتے بھاگتے اس کا آخری قدم قبر پر رک جاتا ہے اور وہ فوت ہو جاتا ہے…
یہاں تک کہ سفر میں اس نے پیسے کے پیچھے گناہ کیئے وہ سنہری لمحے ضائع کیے جس کے لیے انسان کو اللہ نے پیدا کیا ….
پیسے کو ہی نجات سمجھ کر حرام حلال کی تمیز کے بغیر اس کو پانے لگے …
لیکن جب ملے تو پیچھے مڑنے کے بعد بہت کچھ کھو دیتے ہیں …
والدین رشتہ دار دوست گھر والوں یہاں تک کہ دنیا سے لائن کٹ جاتی ہے نہ ہمیں والدین کی خدمت کرنے کا موقع ملا ہوتا ہے نہ ہمیں رشتہ دار پڑوسیوں کے حالات کا علم ہوتا ہے اور نہ دوستوں کا پتا ہوتا ہے …..
اور پھر ہمارا اگلا قدم قبر کے اندر ہوتا ہے اور دنیا ہم پر مٹی ڈال کر اپنے اپنے کام پر لگ جاتے ہیں
وہ لوگ جس کے لیے ہم دھوپ میں سائے بنے ہوئے تھے کچھ دن بعد ایسے بھول جاتے ہیں جیسے ہم تو تھے ہی نہیں. ..
اور ہمارے پاس سوائے افسوس کے کچھ نہیں ہوتا …..
اگر افسوس سے بچنا ہے تو زندگی میں ہی متوازی رہو پیسے اور اپنے خدا کے ساتھ رابطے میں ساتھ ساتھ………..
اپنے والدین کے حقوق جو آپ پر فرض ہیں کچھ چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو والدین کو پیسوں سے نہیں بلکہ آپ کا ساتھ میں بیٹھنے سے ان کو ملتی ہے…
اپنے ساتھ چلنے والوں پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے اور ویسے بھی پیسے خوشیاں نہیں دیتی ہے خوشیاں مل کر اور بانٹنے سے ملتی ہیں …
کم ازکم زندگی میں کچھ اتنا کرو کہ فوت ہونے کے بعد کوئ ایک سورت تلاوت ہی پیار سے آپ کے پیچھے بخشش کرئے …..
اور ویسے بھی قبر میں اپ کے پیسے نہیں بلکہ آپ کی نیکیاں کام آئیں گی ..
کیونکہ نہ کفن میں جیب ہوتا ہے اور نہ فرشتے رشوت لیتے ہیں وہاں سیدھا سیدھا حساب ہوگا …
جیسا کیا ہو گا اس کا صلہ ملے گا……..