سردیوں میں گرم اورگرمیوں میں سرد رکھنے والی گھڑی

ایئرکون واچ کو ذاتی ایئرکنڈیشنڈ کا نام بھی دیا گیا ہے جس کے ذریعے پورے بدن پر سردی یا گرمی محسوس کی جاسکتی ہے۔ یہ گھڑی اس تحقیق کے بعد بنائی گئی ہے کہ جلد کا ایک حصہ دھیرے دھیرے سرد یا گرم کیا جائے تو اس کا اثر پورے بدن تک پھیلتا ہے۔
اسے ہانگ کانگ کے ڈیزائنر سے  بنوایا گیا ہے جس کے پٹے میں سردی اور گرمی کی موجیں خارج کرنے والے پلس نظام موجود ہے، یہ نظام مختلف کیفیات کے لحاظ سے سردی اور گرمی خارج کرتا رہتا ہے اور خصوصاً انسانی نبض کے ذریعے دماغ تک سردی اور گرمی کے سگنل پہنچتے ہیں۔ اس طرح اعصابی نظام بدن کا درجہ حرارت کنٹرول کرنے لگتا ہے، یوں نروس سسٹم میں دخل دینے سے بدن کا درجہ حرارت کچھ کم یا ذیادہ ہوجاتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس گھڑی کا راز اس کے پٹے میں ہے جس میں کلائما کون ٹیکنالوجی پر مبنی ایک چھوٹا آلہ لگایا گیا ہے اور رگوں کے ذریعے یہ درجہ حرارت منتقل کرتا رہتا ہے،اس گھڑی کو کسی بھی موسم، کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایئرکون واچ اوایل ای ڈی ڈسپلے والی گھڑی ہے جس میں 400 ایم اے ایچ کی بیٹری لگی ہے جو 4 گھنٹے سردی اور 8 گھنٹے تک گرمی فراہم کرتی ہے، کمپنی کے مطابق اسے مختلف لوگوں پر آزمایا گیا ہے، گھڑی کی قیمت 75 ڈالر رکھی گئی ہے جو اس سال کے آخر تک دستیاب ہوگی۔ اس سے قبل ایک دستانہ بنایا گیا تھا جس کے اندر سرد پانی تھا جو خون کو ٹھنڈا کرکے جسم کو سرد کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے
This entry was posted in Science and Technology, اہم خبریں. Bookmark the permalink.