سرگودھا :درگاہ کے گدی نشین نے 20 مریدوں کو قتل کر دیا

متولی عبدالوحید سمیت پانچ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ۔ ملزم عبدالوحید الیکشن کمیشن کا ملازم بھی ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے سرگودھا واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کی ۔ سرگودھا میں میں لرزہ خیز قتل نے دل دہلا دیئے ، روحانیت کے لئے آنیوالے حیوانیت کی بھینٹ چڑھ گئے ، درگاہ کے گدی نشین نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر 4 خواتین سمیت 20 افراد کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ پولیس نے درگاہ کے گدی نشین عبدالوحید سمیت 7 افراد کو گرفتار کرلیا ۔ سرگودھا واقعے نے دور جہالت کی یاد تازہ کردی ۔ لرزہ خیزقتل کی واردات پر انسانیت بھی کانپ اٹھی ۔ روحانیت کے لئے آنیوالوں پر حیوانیت کا وار کیا گیا ، یہ انسانیت سوز اور دلخراش واقعہ سرگودھا کے نواحی علاقے 95 شمالی میں قائم دربار پر پیش آیا جہاں علی محمد گجر کے گدی نشین عبدالوحید نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ درگاہ پر موجود 6 خواتین سمیت 22 افراد کو نشہ آور چیز کھلا کر بے ہوش کیا پھر ان پر ڈنڈوں اور خنجر کے وار کیے گئے جس کی تصدیق ڈپٹی کمشنر سرگودھا لیاقت چٹھہ نے بھی کی ۔   تشدد کے بعد درگاہ سے 2 خواتین سمیت 3 افراد زخمی حالت میں بھاگ کر ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچے ۔ زخموں سے چور خاتون نے خود پر ہونے والے ظلم کی دکھ بھری داستان بیان کی ۔ ڈاکٹر نے رخمیوں کی حالت کے بارے میں بتایا ان کی ٹانگوں اور کمر پر نشانات موجود ہیں ، تمام افراد پر تشدد نشے کی حالت میں کیا گیا ، واقعے میں قتل کئے گئے سترہ افراد کی شناخت ہوگئی ۔ مقتولین میں سے دو کا تعلق اسلام آباد سے ایک کا میانوالی سے تھا ، دو کا لیہ اور بعض مقامی افراد تھے ، ایک ہی خاندان کے چھ افراد بھی حیوانیت کی بھینٹ چڑھ گئے ۔ ایس ایچ او کے مطابق ملزم لوگوں کو برہنہ کر کے تشدد کرتے رہے ۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.