سعد رفیق کو خفیہ پیغام؟نوازشریف کی گاڑی کی رفتار اچانک تیز

راولپنڈی: نواز شریف کے ساتھ تعینات پولیس سکواڈ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ قافلہ جب کچہری چوک پہنچا تو وفاقی وزیر سعد رفیق سے چند افراد ملنے آئے اور انہیں ساتھ لے گئے ۔ کچھ دیر بعد سعد رفیق واپس آئے اور جا کر سابق وزیر اعظم کی گاڑی میں بیٹھے ۔ اس کے بعد نواز شریف کی گاڑی اور دیگر دو سکواڈ کی گاڑیاں اچانک اس قدر تیز رفتاری سے بھاگنے لگیں کہ ایک وقت میں گاڑی کی رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تک جا پہنچی ۔ راستے میں منتظر استقبالی اور ان کے کیمپ دھرے کے دھرے رہ گئے ۔ پولیس اہلکار کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سعد رفیق کی وساطت سے نواز شریف کو کوئی پیغام دیا گیا ۔ بی بی سی کے مطابق ایک ٹول پلازہ پر گاڑیاں بغیر ٹول دیئے گزر گئیں ۔ بی بی سی کے مطابق جب وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری سے پوچھا گیا کہ خواجہ سعد رفیق کو کیا پیغام دیا گیا تھا جس کے بعد قافلے کی رفتار بہت تیز کر دی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ قافلے کی رفتار میں تیزی کی وجہ جہلم پہنچنا ہے جہاں میاں نواز شریف خطاب کریں گے ۔ ریلی کی حفاظت پر مامورپنجاب پولیس کے اہلکار حکامِ بالا سے ناراض رہے ۔ اہلکاروں کے مطابق ان سے طے ہوا تھا کہ قافلے کی سکیورٹی ڈیوٹی کے تین گھنٹوں کے تین ہزار ملیں گے ، لیکن اس میں سے بھی رسک الاؤنس کے 1800 روپے کاٹ لیے ہیں۔نواز شریف کے قافلے کے آگے پیچھے چلنے والی پرائیویٹ گاڑیوں کی چاندی ہو گئی ، کیوں کہ قافلے کی وجہ سے ان سے بھی ٹول نہیں لیا جا رہا ۔ ریلی کی وجہ جی ٹی روڈ کے اطراف ہوٹل اور ڈھابے بند کروا دیئے گئے جس پر مالکان سخت برہم تھے ۔ ہوٹل مالکان کا کہنا تھا کہ قافلے کی وجہ سے دو دن سے ان کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے ہم ریلی کو کیا کریں ، ہمارے لیے پیٹ آگے ہے ۔ نواز شریف کی پنجاب ہائوس راولپنڈی سے روانگی میں تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ ریلی کے لیے شرکا کی تعداد قدرے کم تھی ۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.