سعودی صحافی جمال خاشقجی کو کیوں ؟کیسے ؟کہاں اور کن لوگوں نے قتل کیا ؟سعودی عرب کا قتل میں کردار سمیت اہم نکات  اور انکشافات۔ جانیں بادبان سپیشل رپورٹ میں۔


سہیل رانا رپورٹ

sranabadban@gmail.com

سعودی عرب کی سفاکیت کھل کر سامنے آگئی ہے۔آل سعود کی جانب سے پاک سرزمین پر کس طرح بربریت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اب یہ بات کوئی صیغہ راز میں نہیں رہی ۔مخالفین کو چن چن کر انجام تک کس طرح پہنچایا جاتا ہے،اب یہ سب عیاں ہوگیا ہے ۔آل سعود کی سفاکیت کا عملی مظاہرہ کرنا ہو تو صحافی جمال خاشقجی کا دل دہلا دینے والا قتل ہی کافی ہے۔جمال کو صرف آل سعود کے محمد بن سلیمان پر تنقید کی پاداش میں کس طرح ٹکڑوں میں کاٹ کر موت کے گھاٹ اتارا گیا ،اس پر پردہ اٹھانے سے قبل جانیں کہ جمال خاشقجی کون تھا؟جمال 13 اکتوبر 1958ء کو مدینہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا محمد خاشقجی جوبنیادی طور پر ترک تھے، سعودی خاتون سے شادی کی۔وہ سعودی عرب کے بانی عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود کے ذاتی طبیب تھے۔صحافی جمال مرحوم سعودی عرب کے معروف اسلحے کے تاجر عدنان خاشقجی کے بھتیجے تھے۔ جمال کے کزن دودی الفاید برطانوی شہزادی ڈیانا کے دوست تھے اور دونوں پیرس میں ایک کار حادثے میںدار فانی سے کوچ کر گئے تھے۔جمال نے ابتدائی تعلیم سعودی عرب سے اور 1982ء میں امریکا کی انڈیانا یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری حاصل کی۔
اس کے بعد وہ سعودی عرب لوٹے اور 1980ء کی دہائی میں اپنے کریئر کا آغاز صحافت سے کیا۔ انہوں نے ایک مقامی اخبار میں سوویت روس کے افغانستان پر حملے کی رپورٹنگ سے اپنے صحافتی کیریئر کی شروعات کیں۔ اس دوران انہوں نے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن سے متعدد بار انٹرویو کیا۔اس کے علاوہ خلیجی جنگ کی رپورٹنگ بھی کی۔ 1990ء کی دہائی میں وہ سعودی عرب منتقل ہو گئے اور 1999ء میں انگریزی اخبار ‘عرب نیوز’ کے نائب مدیر بن گئے۔ 2003ء میں وہ ‘الوطن’ اخبار کے مدیر بنے لیکن ذمہ داری سنبھالنے کے دو ماہ بعد ہی انھیں ایک کہانی شائع کرنے کی وجہ سے وہاں سے نکال دیا گیا۔ اس کہانی میں سعودی عرب کی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔وہ برطرفی کے بعد پہلے لندن اور پھر واشنگٹن منتقل ہو گئے جہاں وہ سعودی عرب کے سابق انٹیلیجنس چیف شہزادہ ترکی کے میڈیا مشیر بن گئے۔ 2007ء میں پھر الوطن میں واپس آئے لیکن تین سال بعد مزید تنازعات کے بعد انہوں نے اخبار کو چھوڑ دیا۔2011

ء میں شروع ہونے والی عرب سپرنگ تحریک میں انہوں نے اسلام پسندوں کی حمایت کی جنہوں نے کئی ممالک میں اقتدار حاصل کیا۔2012ء میں انہیں سعودی عرب کی پشت پناہی میں چلنے والے العرب نیوز چینل کا سربراہ تعینات کیا گیا۔ اس چینل کو قطری نیوز چینل الجزیرہ کا حریف کہا جاتا ہے۔لیکن بحرین میں قائم کیا جانے والا نیوز چینل 2015ء میں اپنے آغاز کے 24 گھنٹوں کے اندر ہی بحرین میں حزب اختلاف کے ایک معروف رہنما کو مدعو کرنے کے سبب بند کر دیا گیا۔جمال خاشقجی دنیا بھر کے نیوز چینلز کو مستقل طور پر اپنی خدمات فراہم کرتے رہے،اس کے علاوہ بھی وہ کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ 2017ء میں وہ سعودی عرب سے امریکہ منتقل ہو گئے ۔ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ میں اپنے پہلے کالم میں ولی عہد محمد بن سلمان کی پالیسیوں پر تنقید کی اور اس طرح محمد بن سلمان خاشقجی کی جان کے دشمن بن گئے ۔اب آتے ہیں جمال خاشقجی کے اندوہناک قتل کی طرف ۔ 2اکتوبر 2018ء منگل کے روزجمال طلاق کے سرکاری دستاویز لینے کے لیے استنبول میں سعودی قونصل خانے گئے تاکہ وہ ایک ترک خاتون سے شادی کر سکیں جن سے ان کی منگنی ہوئی تھی۔موبائل اور دوسرا سامان منگیتر کے سپرد کرنے بعد جمال سفارت خانے کے اندر داخل ہوئے مگر گھنٹوں گزر گئے جمال باہر نہ آئے ،ان کی منگیترنے سعودی قونصل خانے کے باہر11 گھنٹے انتظار کیا اور اسکے بعد واپس لوٹی۔19

اکتوبر 2018ء کو سعودی عرب کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے 17 دن کے بعد جمال کے حادثاتی طور پر قتل ہونے کی تصدیق کر دی۔سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوٹر کے جانب سے ایک بیان میں کہا گیاکہ قونصل خانے میں جمال خاشقجی اورعملے کے درمیان جھگڑا شروع ہوگیا جس کی وجہ سے انکی موت واقع ہوگئی۔ اس بیان کے مطابق تحقیقات تاحال جاری ہیں اور 18 سعودی باشندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس بھونڈے بیان کے بعد شاید ہی کوئی انسان ہو جو اس بیان کو سچ مانے ۔

اب آتے ہیں اس تحقیق کی طرف کہ جمال کو کس طرح موت کے گھاٹ اتارا گیا ۔رپورٹ کے مطابق دو اکتوبر کی صبح دو پرائیویٹ طیارے استنبول کے اتاترک ایئرپورٹ پر اترتے ہیں ۔ان طیاروں میں پندرہ سعودی عرب کے خصوصی انٹیلی جنس اور دوسری فورس کے افسران اور ایک فرانزک ایکسپرٹ بھی شامل تھا۔ان افسران نے سعودی قونصل خانے کے نزدیک دو ہوٹلوں میں رہائش اختیار کی ۔صبح کے وقت محمد بن سلمان کا خاص ساتھی جو غیر ملکی دوروں میں اکثر اسکے ساتھ دیکھا گیا ،سعودی قونصل خانے میں داخل ہوا ۔دوپہر کے تقریباً سوا ایک بجے جمال خاشقجی سعودی سفارت خانے میں داخل ہوا ۔وہ ان دستاویزات کو لینے آیا تھا جسکی ایک ہفتہ قبل اس نے درخواست کی تھی ۔اس دن تمام مقامی ترکش سٹاف کو چھٹی دے دی گئی تھی ۔فون اپنی منگیتر کو پکڑاتے ہوئے انہوں نے منگیتر کوہدایت کی کہ اگر وہ چار گھنٹوں تک واپس نہیں آتے تو وہ آلارم بجا دیں ۔جمال کے ہاتھ میں لگی گھڑی اس کے ایپل کے موبائل سے کنیکٹ تھی جس سے اب اہم شواہد حاصل ہوئے ۔سفارت خانے کے اندر جاتے ہی جمال کو ایک آفیسر نے خوش آمدید کہا جوانہیں قونصل جنرل آفس لیکر گیا ۔اسی دوران دو لوگ کمرے میں داخل ہوئے جو جمال کو اس جگہ پر لے گئے جہاں اسے قتل کیا گیا ۔بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جمال کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ،یہاں تک کہ ابھی وہ زندہ تھا کہ اس کے جسم کے حصوں کو کاٹنا شروع کر دیا ۔ایسے ظلم و بربریت پر روح تک کانپ جاتی ہے مگر ان طالموں کو ذرا بھی ترس نہ آیا ،اور آتا بھی کیسے سعودی عرب کیلئے یہ کوئی پہلا انسانیت سوز واقعہ نہیں تھا ،اس کا یہ ہمیشہ شیوہ رہا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو ایسے ہی تکلیف دہ مراحل سے گزار کر ابدی نیند سلا دیتا ہے اور آج تک آل سعود کی سلطنت بھی اسی ظلم کی دیواروں سے قائم و دائم ہے ۔جمال کی منگیتر گیارہ بجے تک انتظار کرتی رہی اور پھر واپسی کی راہ لی ۔جمال کے قتل کے بعد 6کاروں ( جن پر ڈپلومیٹک نمبر پلیٹس لگی ہوئی تھیں)پر مشتمل سعودی افسران اور اور جمال کی نعش کو قونصل جنرل کے گھر پر منتقل کیا گیا ۔حیران کن طور پر اس دن قونصل جنرل کے گھر پر کام کرنے والے سٹاف کو بھی چھٹی دے دی گئی تھی ۔یہ کاریں کئی گھنٹے تک قونصل جنرل کے گھر پر مقیم رہیں اور اطلاعات کے مطابق گھر میں گڑھا کھود کر جمال کی نعش کو چھپا دیا گیا ۔

اسی دن سہ پہر چار بجے کے قریب محمد بن سلمان کا قریبی ساتھی مترب سعودی قونصل جنرل کی رہائش گاہ کے قریب دیکھا گیا جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے ۔ہوٹلز تین دن کیلئے بک کیے گئے تھے ،مگر سعودی افسران نے دوسرے دن ہی کمرے سے چیک آؤٹ کر لیا ۔دونوں جہاز مختلف روٹس سے ریاض سعودی عرب پہنچے ۔جمال کی گمشدگی کے بعد تفتیش کا دائرہ کار وسیع ہوا اور عالمی سطح پر اس مسئلہ کو اٹھایا گیا تو پہلے تو سعودی عرب اس میں ملوث ہونے سے انکاری رہا مگر اب جب شکنجہ محمد بن سلمان تک پہنچا تو اب بھونڈے انداز میں اس قتل کے محرکات پیش کیے جا رہے ہیں اور چند افسران کو قربانی کا بکرا بھی بنا دیا گیا ہے ۔مگر یہ بات سب پر عیاں ہے کہ جمال کے قتل کے

پیچھے صرف محمد بن سلمان کا ہاتھ ہے جو اپنے اوپر تھوڑی سی بھی تنقید برداشت نہیں کر سکتے ۔صحافی کا کام ہے کہ وہ جہاں حکومت کے اچھے کاموں کی تعریف کرے وہاں اس کے خلاف عامہ امور پر بھی تنقید کرے ،جو جمال نے کیا مگر اس تنقید کی اتنی بڑی سزا ؟کیا دنیا سعودی عرب میں سسک سسک کر زندگی گزارنے والے انسانوں کی تکلیف سے باخبر ہوگی یا انہیں بھی جمال کی طرح ذبح کرنے کیلئے درندوں کے سپرد کردے گی؟ذرائع کے مطابق محمد بن سلمان نے خود کو محدود کر لیا ہے اور اسے خطرہ ہے کہ کسی بھی وقت اس کا تختہ دھڑن کر دیا جائے گا چونکہ سعودی عرب میں نہ صرف

شاہی خاندان کے کچھ افراد بلکہ عام لوگ بھی آل سعود کے مظالم سے تنگ آکر اپنی آواز بلند کر رہے ہیں

سہیل رانا 

 ڈیلی پوسٹ انٹرنیشنل
بادبان ٹی وی نیوز